ملفوظات (جلد 10) — Page 284
قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ( البقرۃ :۲۵۷) کوئی گڑ بڑ نہیں اور نہ کوئی شک و شبہ اس میں باقی ہے۔مسلمان کہلا کر ایسی بات پیش کرنا جو قرآن کے خلاف اسلام کے متضاد۔کیا عقلمندی ہے؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف جو شخص کسی اَمر پر اجماع کا قائل ہے وہ کذّاب ہے۔صوفیا ء کرام اور بعض صلحاء اُمت خیر الانام کا یہی مذہب تھا کہ وہ وفات پاچکے اور آنے والا اسی اُمت میں سے ہوگا۔مگر تعصب ایک ایسی بَلا ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتے اور باوجود جاننے کے نہیں سمجھتے۔باوجود کانوں کے نہیں سنتے۔افسوس تعصب اور ضد نے ان میں اپنے نفع نقصان کی بھی تمیز باقی نہیں رہنے دی۔چالیس کروڑ انسان ایک ضعیف اور ناتواں انسان کو انہی دلائل سے خدا مان رہا ہے کہ وہ ازلی ابدی ہے۔زندہ آسمان پر موجود ہے اور اس نے خلق طیر کیا۔مُردوں کو زندہ کیا۔اور یہ مسلمان ہیں کہ اپنے پائوں پر آپ کلہاڑی مارتے اور اپنی گردن کاٹنے کے واسطے خود ان کے ہاتھ میں چُھری دیتے اور ان کی اس خطرناک بُت پرستی میں مدد کرتے ہیں جس کے واسطے خدا تعالیٰ نے ایسا غضب ظاہر کیا۔تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا(مریم:۹۱) ان نام کے مسلمانوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ ان کی اپنی ہی اولاد کو خود ان کے اپنے اقوال کو حجت پکڑ کر ملزم کر کے مرتد کیا جاتا ہے۔کاش یہ اس خواب غفلت سے بیدار ہوں اور دوست و دشمن اور اپنے نفع نقصان کو پہچانیں۔یہ اسلام کے نادان دوست اتنا نہیں سمجھتے کہ خدا تو ایسا غیور ہے کہ ان کے عقائد فاسدہ کو بیخ وبُن سے اکھاڑتا اور ذرا سی دیر کے واسطے بھی ان کے مشرکانہ اصولوں کو سن نہیں سکتا۔قرآن شریف میں تدبّر اورخوض کرنے والے جانتے ہیں کہ باطل کا سر کچلنے کے واسطے خدا نے کیسے کیسے حربے اختیار کئے ہیں۔دیکھو! نصاریٰ نے مسیحؑ کے بن باپ ہونے کو اس کی خدائی کی دلیل خیال کیا تھا۔خدا نے کس طرح ان کو آدمؑ کی نظیر پیش کر کے نادم و ذلیل کیا اور ان کے دعویٰ کو باطل کیا۔اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ(اٰلِ عـمران : ۶۰) مسیحؑ تو بن باپ تھا۔آدم اس سے بھی بڑ ھ کر خدائی کے لائق ہے کیونکہ یہاں باپ نہ ماں، دونوں ندارد۔