ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 285

پس یاد رکھو کہ اگر فی الواقع حضرت مسیحؑ زندہ مع جسم عنصری آسمان پر گئے ہوتے اور خدا ان کی اس دلیل کو بھی سچا مانتا تو ضرور تھا کہ اس کی کوئی نظیر پیش کرکے ان کے اس باطل (خیال) کو بھی ملیا میٹ کر دیتا مگر خدا نے ان کی اس بات کو نفی کے رنگ میں باطل کیا ہے اور یہی جواب دیا ہے کہ وہ تو مَرگیا آسمان پر جانا کیسا؟ یادرکھو کہ اگر خدا کا بھی یہی منشا ہوتا کہ درحقیقت حضرت عیسٰیؑ زندہ آسمان پر ہیں تو ضرور تھا کہ بُت پرستی کی اس دلیل اور باطل کے اس دیو کے سر کچلنے کے واسطے بھی کوئی نظیر ہی کا حربہ چلاتا مگر خدا کے نظیر پیش نہ کرنے سے اور وفات کا جابجا ذکر کرنے سے یہ صاف عیاں ہے کہ وہ ضرور وفات پاچکا ہے اور زندہ آسمان پر نہیں ہے اور خدا نے ان کی اس دلیل کو مانا ہی نہیں ورنہ ضرور ی تھا کہ جس طرح پہلے نظیر پیش کرکے ان کو ملزم و خوار کیا یہاں بھی نظیری وجہ سے عیسائیت کے بُت کو پاش پاش کرتا مگر خدا نے ایسا نہیں کیا۔اس کی یہی وجہ ہے کہ خدا نے ان کی اس دلیل کو ان کی وفات کے بیان سے ردّ کیا ہے اور درحقیقت ان کی اس حجت کا حقیقی اور اصل جواب یہی ہے کہ قرآن کا یہ منشا ہر گز نہیں کہ حضرت عیسٰیؑ زندہ آسمان پر اُٹھا لئے گئے بلکہ وہ بھی وفات پا چکے جس طرح تمام انبیاء وفات پاگئے۔یہ عجیب بات ہے کہ چونکہ وہ قتل نہیں ہوئے اس واسطے آسمان پر چڑ ھ گئے۔کیا جو قتل نہیں کیا جاتا وہ لازماً آسمان پر چلا جاتا ہے۔جب تو پھر لاکھوں کروڑوں کو زندہ آسمان پر ماننا پڑے گا۔اصل جھگڑا تو یہود کا یہ تھا کہ حضرت مسیحؑ کا رفع روحانی نہیں ہوا۔وہ تو اس بات کو ثابت کرنا چاہتے تھے کہ نعوذ باللہ مسیح لعین اور مردود ہیں۔اسی واسطے وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ہم نے مسیح کو صلیب دیا اوراس طرح سے ان کو قتل کرنے کے مدعی تھے تاکہ اپنی کتاب کے فرمودہ کے مطابق ان کو جھوٹا نبی ثابت کریں۔رفع جسمانی کے متعلق تو کوئی جھگڑا ہی نہ تھا۔قرآن شریف چونکہ بنی اسرائیل کے متنازع فیہ امور میں حَکم اور قولِ فیصل ہے اس نے یہود کے اس اعتراض اور بہتان کا جو انہوں نے مسیحؑ کو لعنتی اور جھوٹا ثابت کرنے کے واسطے باندھا تھا جواب دیا کہ مَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ (النّسآء:۱۵۸،۱۵۹) کہ یہود نے جیسا کہ ان کا زُعم ہے حضرت مسیحؑ کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی