ملفوظات (جلد 10) — Page 283
ہم علیٰ وجہ البصیرت یقین رکھتے ہیں۔کہ تَوَفّی کے معنے لغت عرب میں اور کلام خدا اور رسول میں ہرگز مع جسم عنصری اٹھائے جانے کے نہیں ہیں۔تمام قرآ ن شریف کو یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیے۔قرآن خدا ئے علیم وخبیر کی طرف سے کامل علم اور حکمت سے نازل کیا گیا ہے۔اس میں اختلاف ہرگز نہیں۔بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہوئی ہیں۔اگر ایک متشابہات ہیں تو دوسری محکمات ہیں۔جب یہی لفظ اور مقامات میں دوسرے انبیاء کے حق میں بھی وارد ہے تو اس کے معنے بجز موت کے اور کچھ نہیں کئے جاتے تو پھر نہ معلوم کہ کیوں حضرت مسیحؑ کو ایسی خصوصیت دی جاتی ہے۔کیا ابھی تک مسیحؑ کو خصوصیت دینے کا انہوں نے مزہ نہیں چکھا؟ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں صاف یہ لفظ ہیں۔اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ ( یونس : ۴۷) پھر حضرت یوسف ؑکے متعلق بھی قرآن شریف میں یہی تَوَفّی کا لفظ وارد ہے اور اس کے معنے بجز موت ہرگز نہیں ہیں۔دیکھو تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ (یوسف :۱۰۲) یہ حضرت یوسفؑ کی دعا ہے تو کیا اس کے بھی یہی معنے ہیں کہ اے خدا! مجھے زندہ مع جسم عنصر ی آسمان پر اٹھا لے اور پہلے صلحاء کے ساتھ شامل کر دے جو کہ زندہ آسمان پر موجود ہیں۔تَعٰلَى اللّٰہُ عَمَّا يَصِفُوْنَ۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل میں جو ساحر فرعون نے بلائے تھے۔ان کے ذکر میں تَوَفّی کا لفظ مذکور ہے جہاں فرمایا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ( الاعراف :۱۲۷) اب ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ خدا اور اس کے کلام کے مقابلہ میں دم مارے۔قرآن حضرت عیسٰیؑ کو سراسر مارتا ہے اور ان کے وفات پا جانے کو دلائل اور براہینِ قطعیہ سے ثابت کرتا ہے اور رسول اکرمؐ نے اس کو معراج کی رات میں وفات یافتہ انبیاء میں دیکھا۔جائے غور ہے کہ اگر حضرت عیسٰیؑ زندہ مع جسم عنصر ی آسمان پر اُٹھائے جا چکے تھے تو پھران کو وفات شدہ انبیاء سے کیا مناسبت؟ زندہ کو مُردہ سے کیا تعلق اور کیسی نسبت؟ ان کے لئے تو کوئی الگ کوٹھڑی چاہیے تھی۔