ملفوظات (جلد 10) — Page 282
دوسری آیت جو حضرت عیسٰیؑ کی وفات کے بارہ میں خصوصیت سے ذکر ہوئی ہے وہ خود حضرت عیسٰیؑ کا قول ہے جو وہ قیامت کے دن خدا کے حضور عرض کریں گے کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ(المآئدۃ:۱۱۸) اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کہ اے عیسٰیؑ! کیا تو نے اس قوم کو ایسی بد راہی اور گمراہی کی تعلیم دی کہ تجھے اور تیری ماں کو معبود بنالیں اور خدا ئے عزّوجل واحد و یگانہ کی عبادت کو ترک کر دیں؟ حضرت عیسیٰ ؑ کانوں پر ہاتھ دھریں گے اور قوم نصاریٰ کے گمراہ ہونے سے اپنی لاعلمی اور معذرت عرض کریں گے کہ اے خدا وند! مجھے ان کے حالات سے اسی وقت تک اطلاع تھی جب تک کہ میں ان میں رہا اور جب تک میں ان میں رہا تب تک میں نے ان کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم اس خدا کی عبادت کر و جو میرا اور تمہار ا سب کا ایک ہی خدا ہے۔پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی اس کے بعد کا تو ہی نگران اور واقفِ حال ہے مجھے کوئی علم نہیں۔اب یہ بات دوحال سے خالی نہیں۔یا تو یہ لوگ اقرار کریں کہ واقعی قوم نصاریٰ ابھی تک بگڑی نہیں اور جو عقیدہ اتخاذِ ولد اور تثلیث وغیرہ کا انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے یہی عین توحید اور رضاءِ الٰہی کاموجب اور موافق تعلیم حضرت مسیحؑ ہے جس کا اقرار ان کی زبانی قرآن میں موجود ہے اور یا یہ لوگ اس بات کا اقرار کریں کہ درحقیقت مسیح ناصری جو کہ بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے واسطے مامور کیا گیا تھا۔اپنی مفوّضہ خدمت کو انجام دے کر بموجب حکم الٰہی اپنی طبعی موت سے وفات پاگیا ہے اور کہ آئندہ وہ کبھی دنیا میں نہیں آسکتا بلکہ آنے والا امت محمد یہؐ میں سے ہو گا جو کہ ان کی خُوبُو پر ہونے اور مناسبتِ وقت اور مناسبتِ کام کے لحاظ سے مسیح کہلائے گا۔ظاہر ہے کہ صورت اوّل خدا او ر خدا کے رسول قرآن اور قرآنی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اور ایسی ہے کہ اس کے ماننے کے ساتھ ہی تمام اسلام کی عمارت گرتی ہے اور صورت دوم خدا کے منشا کے مطابق حقیقت الامر اور قرآنی تعلیم کا سچا اصول ہے اور اسی میں اسلام کی فتح، کامیابی، صداقت اور بزرگی کا اظہار ہے۔اب ان کا اختیار ہے کہ ان دونوں راہوں میں سے جو راہ چاہیں اختیار کر لیں۔