ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 281

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۱ جلد دہم - تے تھے اور ان کا وفات وفار پانا إنا ثابت ثابت ہوتا ہے بعض آیات عام ہیں اور بعض خاص حضرت عیسی ہی کے متعلق ۔ عام طور پر تمام انبیاء علیہم السلام کی وفات کے متعلق جس میں حضرت عیسی بھی شامل ہیں یہ آیت واضح اور کھلا بیان کرتی ہے وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران : ۱۴۵) خلت کا لفظ قرآن شریف کے محاورے میں ہر گز کسی ایسے شخص کے واسطے استعمال نہیں ہوا جو زندہ ہو بلکہ ہمیشہ وفات یافتہ لوگوں پر ہی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی یہی معنے کئے ہیں۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر جب کہ حضرت عمر نے جوش محبت ، وفور الفت کی وجہ سے تلوار کھینچ لی تھی اور آپ ننگی تلوار لئے گلیوں میں پھرتے کہتے تھے کہ جو کوئی کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اس کی گردن مار دوں گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس واقع سے خبر پا کر مسجد میں آئے اور منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں ابتداء یہی آیت پڑھی وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَابِنُ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ ۔۔۔۔ الخ (ال عمران : ۱۴۵) اس وقت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس آیت کو سن کر رو پڑے اور یہ سمجھا کہ گویا یہ آیت آج ہی اتری ہے اور حضرت عمر نے بھی جن کو اتنا جوش تھا کہ تلوار لئے پھرتے تھے اور ان کا یہ خیال تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی وفات نہیں پائی اس خطبہ کے بعد تلوار چھوڑ دی اور پھر کبھی کوئی ایسا ذ کر نہ کیا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر صحابہ میں سے کسی ایک نفس واحد کا بھی یہ اعتقاد ہوتا کہ حضرت عیسی زندہ بجسم عنصری آسمان پر ہیں تو کیوں وہ اس وقت اعتراض نہ کرتے اور کہتے کہ کیا وجہ ہے کہ ایک چھوٹی سی قوم کا رسول تو زندہ ہے پر ہمارا رسول جس کو خدا نے تمام جہان کے واسطے قیامت تک کی تمام انسانی نسلوں کے لئے بلا کسی خصوصیت کے بھیجا۔ وہ تو ستر برس تک بھی زندہ نہ رہ سکے ۔ پس صحابہؓ کا سکوت اور خاموشی اور کسی قسم کا اعتراض نہ کرنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ تمام صحابہ حضرت عیسی کو دوسرے انبیاء کی طرح وفات یافتہ یقین کرتے تھے اور کسی ایک کا بھی ہرگز یہ اعتقاد نہ تھا کہ وہ آسمان پر زنده بجسم عنصری خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھے ہیں اور یہ اسلام میں سب سے پہلا اجماع ہے۔