ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 263

خط بادشاہوں کو لکھے تھے تو ان میں سے ہرقل قیصرروم کے نام بھی ایک خط لکھا تھا۔اس نے خط پڑھ کر کسی عرب کی جو آپؐکی قوم کاہو تلاش کرائی۔چنانچہ چند قریشی جن میں ابوسفیان بھی تھا پیش خدمت کئے گئے۔ان سے بادشاہ نے چند سوال کئے جن میں یہ بھی تھے کہ اس شخص کے آباء واجداد میں سے کبھی کسی نے نبوت کا دعویٰ تونہیں کیا ؟جس کا جواب نفی میں دیا گیا۔پھر پوچھا گیا کہ کوئی بادشاہ تونہیں گذرا اس کے بزرگوں میں؟ اس کا جواب بھی نفی میں دیا گیا۔پھر یہ سوال کیا کہ اس شخص کے پیرو کون لوگ ہیں؟ اس کے جواب میں کہا گیا کہ ان کی پیروی کرنے والے غریب اور کمزور لوگ ہیں۔پھر اس نے دریافت کیا کہ لڑائیوں میں کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ جواب دیا گیا کہ کبھی وہ فتح پاتا ہے اور کبھی ہم کامیاب ہوتے ہیں۔ان سوالات کے جوابات سن کر قیصر نے اقرار کیا کہ انبیاء ہمیشہ دنیا میں اسی شان میں آیا کرتے ہیں ان کے ساتھ اوّل میں ہمیشہ کمزور اورضعیف لوگ ہی شامل ہوا کرتے ہیں اس شخص نے اپنی فراستِ صحیحہ سے معلوم کرلیا کہ واقعی یہ شخص سچا نبی ہے اوریہ وہی نبی ہے جس کی پیشگوئی کی گئی ہے چنانچہ اس نے یہ بھی کہا وہ وقت قریب ہے کہ وہ میرے تخت کا بھی مالک ہوجاوے گا۔غرض یہ سنّت ِقدیمہ ہے کہ انبیاء کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اورضعیف لوگ ہی ہواکرتے ہیں بڑے بڑے لوگ اس سعادت سے محروم ہی رہ جاتے ہیں ان کے دلوں میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو ان باتوں سے پہلے ہی فارغ التحصیل سمجھے بیٹھے ہوتے ہیں۔وہ اپنی بڑائی اور پوشیدہ کبر اور مشیخیت کی وجہ سے ایسے حلقہ میں بیٹھنا بھی ہتک اورباعث ننگ وعار جانتے ہیں جس میں غریب مگر مخلص کمزور مگر خدا کے پیارے لوگ جمع ہوتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ صدہالوگ ایسے بھی ہماری جماعت میں داخل ہیں جن کے بدن پر مشکل سے لباس بھی ہوتا ہے۔مشکل سے چادر یا پاجامہ بھی ان کو میسر آتا ہے۔ان کی کوئی جائیداد نہیں مگر ان کے لاانتہا اخلاص اور ارادت سے محبت اور وفا سے طبیعت میں ایک حیرانی اورتعجب پیدا ہوتا ہے جوا ن سے وقتاً فوقتاً صادر ہوتا رہتا ہے یا جس کے آثار ان کے چہروں سے عیاں ہوتے ہیں وہ اپنے ایمان کے