ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 262

اور تحریراً تقریر اً اپنے وعظوں اورلیکچروں میں کہا کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں مسیح موعود کا آجانا یقینی اورقطعی ہے اورعلاوہ ازیں کُل علامات جو یہ بیان کرتے تھے میری صداقت کے لئے ظاہر ہوچکی تھیں۔مگر ہماری وہ امید بالکل غلط نکلی علماء کی طرف سے ہمیں اس دعوت کا جو جواب ملاوہ ایک فتویٰ تھا جس میں ہمیں کافر، اکفر، ضالّ، مُضلّ، دائرہ اسلام سے خارج، یہود اورنصاریٰ سے بدتر قرار دیا اورلکھا گیا کہ ان لوگوں کو اپنی قبروں میں داخل نہ کیا جائے۔ان کے جنازے نہ پڑھے جاویں۔ان کے ساتھ ملاقات نہ کی جاوے۔ان سے مصافحہ نہ کیا جائے۔حتی کہ یہاںتک تشدد کیا کہ جو ان سے میل جول رکھے گا وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔پھر ان لوگوں سے یہ جواب پاکر ہمیں خیال آیا کہ تعلیم یافتہ لوگ عموماً بے تعصب اورعناد سے پاک ہوتے ہیں۔لہٰذا اسی خیال سے ہم نے پھر اپنی دعوت نئے تعلیم یافتہ گروہ کے پیش کی مگر ان میں سے اکثر کو بے قید پایا اور اکثر کو دیکھا کہ وہ خود اسلام میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ اسلام کی تعلیم ایک جاہلانہ اور وحشیانہ زمانہ کی تعلیم تھی اب اس کی ضرورت نہیں۔اب اس سے فراغت حاصل کرنی چاہیے اورزمانہ کی رفتار کے مناسبِ حال ترمیم کرلینی چاہیے۔غرض اس طرح سے اس قوم کے لوگوں سے بھی محرومی ہی ہوئی۔الاماشاء اللہ پھر رئوسا کے گروہ کی طرف اپنی دعوت بھیجی کہ ان کو دنیا کا حصہ دیا جاتا ہے اوریہ سیدھے سادے مسلمان ہوتے ہیں۔چنانچہ ان میں سے ایک شخص صدیق حسن خاں نے ہماری کتاب کو چاک کر کے واپس بھیج دیا اوراس طرح سے اپنی قساوتِ قلبی کا اظہار کیا۔ان کے بعد ہم نے سمجھا کہ یہ سعادت ہمیشہ ضعفا ہی کا حصہ ہوتی ہے چنانچہ ہمارا یہ خیال بالکل صحیح نکلا اورسنّتِ قدیمہ کے بموجب ضعفا ہی اکثر ہمارے ساتھ ہوئے جن کو نہ مولویت کاگھمنڈ اورنہ دولت کا تکبّر بلکہ بالکل سادہ لوح اورپاک نفس ہوتے ہیں۔اور وہی خدا کے بھی مقرّب ہوتے ہیں، چنانچہ اسی گروہ میں سے کئی لاکھ انسان اب ہمارے ساتھ ہیں۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب نبوت کا خلعت خدا سے پاکر دعوتِ اسلام کے