ملفوظات (جلد 10) — Page 19
جاویں گے۔‘‘۱ بلا تا ریخ۲ بعض فقہی مسائل کی تشریح ایک صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں خط لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ نماز کس طرح پڑھنی چاہیے ؟ اور تراویح کے متعلق کیا حکم ہے اور سفر میں نماز کا کیا حکم ہے ؟ اور کچھ اپنے ذاتی معاملا ت کے متعلق دعا کرائی تھی اس کے جواب میں حضرت نے تحریر فرمایا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نماز وہی ہے جو پڑھی جاتی ہے۔صر ف تضرّع اور انکسار سے نماز ادا کرنی چاہیے اور دین، دنیا کے لئے نماز میں بہت دعا کرنی چاہیے خواہ اپنی زبان میں دعا کر لیں۔اور تمہا رے قرضہ کے لئے انشاء اللہ دعا کروں گا۔یاد دلاتے رہیں۔لڑکے کے لئے بھی دعا کروں گا۔سفر میں دوگانہ سنّت ہے۔تراویح بھی سنّت ہے پڑھا کریں اور کبھی گھر میں تنہائی میں پڑھ لیں کیونکہ تراویح دراصل تہجد ہے کوئی نئی نماز نہیں۔وتر جس طرح پڑھتے ہو۔بیشک پڑھو۔عالم آخرت کے اجسام کیسے ہوں گے ایک دوست نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ عالَمِ آخرت میں کیا یہی اجسام ومکانا ت وغیرہ جو یہاں ہیں ہوں گے یا اَور ؟ حضرت نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ مجھے قرآن شریف کا علم دیا ہے وہ یہی ہے کہ و ہ عالم اس عالم سے بالکل علیحدہ ہے۔مَالَا عَیْنٌ رَاَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ (الحدیث) ہمارا اعتقاد ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۵۲ مورخہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴،۵ ۲حضرت اقدسؑ کے یہ ارشادات دسمبر ۱۹۰۷ء کی کسی تاریخ کے معلوم ہوتے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب (مرتّب)