ملفوظات (جلد 10) — Page 20
یہی ہے کہ وہ دوسرا عالَم بالکل اس عالَم سے الگ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔بہشت کی تمام چیزیں ایسی ہوں گی کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی دل میں گذریں بلکہ حشر اجساد میں بھی ہمارا یہی مذہب ہے کہ وہ عالَم بھی ایک دوسرا عالَم ہے۔اجسام ہوں گے مگر وہ نورانی اجسام ہوں گے نہ یہ تاریک اور زوال پذیر اجسام۔اس جگہ کی حویلیاں اور مکانات جو اینٹ پتھر کی ہیں بہشت میں نہیں جائیں گی۔واللہ اعلم۱ ۲۷؍دسمبر ۱۹۰۷ء (بروز جمعہ) جلسہ سالانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تقریر بے نظیر ایک عظیم الشان معجزہ دیکھو اوّل اللہ جلّ شانہٗ کا شکر ہے کہ آپ صاحبو ں کے دلوں کو اس نے ہدایت دی اور باوجود اس بات کے کہ ہزاروں مولوی ہندوستان اور پنجاب کے تکذیب میں لگے رہے اور ہمیں دجّال اور کافر کہتے رہے آپ کو ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے کا موقع دیا۔یہ بھی اللہ جلّ شانہٗ کا بڑا معجزہ ہے کہ باوجود اس قدر تکذیب اور تکفیر کے اور ہمارے مخالفوں کی دن رات کی سر توڑ کو ششوں کے یہ جماعت بڑھتی جاتی ہے۔میرے خیال میں اس وقت ہماری جماعت چا۴ر لاکھ سے بھی زیادہ ہو گی اور یہ بڑا معجزہ ہے کہ ہمارے مخالف دن رات کو شش کر رہے ہیں اور جانکاہی سے طرح طرح کے منصوبے سو چ رہے ہیں اور سلسلہ کو بند کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں مگر خدا ہماری جماعت کو بڑھاتا جاتا ہے۔جانتے ہو کہ اس میں کیا حکمت ہے ؟ حکمت اس میں یہ ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ جس کو مبعوث کرتا ہے اور جو واقعی طور پر خدا کی طرف سے ہوتا ہے وہ روز بروز ترقی کر تا اور بڑھتا ہے اور اس کا سلسلہ دن بدن رونق پکڑتا جاتا ہے ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۵۲ مورخہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶