ملفوظات (جلد 10) — Page 253
ہیں کہ وہ خادم الحرمین ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ حرمین اس کی حافظ ہیں۔حرمین کی برکت اور طفیل ہے کہ اب تک وہ بچا ہواہے۔جو مذہبی آزادی اس ملک میں ہمیں نصیب ہے وہ مسلمان ممالک میں خود مسلمانوں کو بھی نصیب نہیں۔دیکھو! کس آزادی سے ہم کام کر رہے ہیں اور پھر کیا اثر ہماری تالیفات کا ملک پر ہوا ہے؟ قادیان میں ہمیشہ پادری لوگ آیا کرتے تھے۔ان کے خیمے ہمیشہ قادیان کے باہر کی طرف نصب کئے جاتے تھے اور وہ پھر کر اپنا وعظ کیا کرتے تھے۔مگر اب عرصہ پندرہ برس کا ہوتا ہے کہ کبھی کسی پادری کی شکل بھی نظر نہیں آئی۔ہمیشہ کہا کرتے تھے اور مسلمانوں کو دعوے سے بلایا کرتے تھے کہ کوئی ان سے مباحثہ کرے اور کہتے تھے کہ نعوذباللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی معجزہ ظاہر نہیں ہوا۔ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ زندہ نبیؐ کے مضمون پر بحث کی جاوے مگر اب یہ معاملہ ہے کہ ہم بلاتے ہیں۔انعام دیتے ہیں۔مگرکوئی ادھر آتا ہی نہیں گویا وہ پہلو ہی بدل دیا ہے۔ہم جہاں تک کوئی طریق اتمامِ حجت کا ہو سکتا ہے کرنے کو ہر وقت تیار ہیں۔اسلام پر بیرونی حملے وہ وقت بھی آپ کو یاد ہو گا کہ کہا کرتے تھے کہ قرآن میں ایک بھی معجزہ نہیں ہے۔غُلِبَتِ الرُّوْمُ ( الرّوم:۳) والی پیشگوئی محض ایک اٹکل تھی جو آنحضرتؐنے ( نعوذباللہ) دونوں طاقتوں کا مقابلہ کرنے سے کر دی تھی۔نوبت یہاں تک تھی۔پھر ایک اور خطرناک دھبہ ہمیشہ سے اسلام کے پاک اور نورانی چہرہ پر لگاتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔غرضیکہ طرح طرح کے الزامات اور بے جا اعتراضات کا ایسا طوفان بے تمیزی برپا کر رکھا تھا کہ ان کی کتابوں اور رسائل کو جو انہوں نے اسلام کے برخلاف اس نصف صدی میں لکھی ہیں جمع کیا جاوے تو میرے خیال میں ایک پہاڑ بنتا ہے۔جاننے والے جانتے ہیں کہ اتنے حملے نہ کبھی کسی نبی پر کئے گئے اور نہ اتنی گندہ دہانی کسی نبی کے مقابل پر کی گئی اور جب سے دنیا پیدا ہوئی نہ کسی کو اتنی گا لیاں دی گئیں اور نہ کسی نبی کی اتنی ہتک کی گئی ہے۔آریوں کو دیکھو ان کی کتابوں میں تو ایسا گند بھر ا پڑا ہے کہ کوئی باغیرت مسلما ن، میں سمجھتا ہوں