ملفوظات (جلد 10) — Page 254
کہ ان کتابوں کی ایک سطر بھی پڑھ نہیں سکتا۔خصوصاً اگر لیکھرام کی کتابوں کو دیکھا جاوے۔۔۔۔۔اسلام کے اندرونی دشمن غرض یہ تو بیرونی دشمنوں کاحال ہے۔خود گھر کا حال اس سے بد تر ہے اور اندرونی دشمن دوستی کے مدعی بن کر اس سے بھی زیادہ نقصان اور مضرت کا باعث ہو رہے ہیں۔علماء جو دین کے ستون اور نجات کا باعث سمجھے جاتے تھے۔ان کا یہ حال ہے کہ جب خدا نے عین سنّت ِقدیمہ کے مطابق محض حق و حکمت سے عین ضرورت کے وقت ان مفاسد کی اصلاح اور انسداد کے واسطے ایک آسمانی سلسلہ قائم کیا اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی صداقت کے واسطے ہزاروں اقتداری نشانات ظاہر فرمائے ہیں۔یہ لوگ جن کا بوجہ اس کے (کہ) دین کے ستون تھے اور قرآن و حدیث کے علوم سے واقف و آگاہ ہونے کے زیادہ مستحق اس بات کے تھے کہ اس سلسلہ کی تائید کرتے، اُلٹے دشمن اور استیصال چاہنے والے بن گئے۔اور طرح طرح کے منصوبوں سے اس خدائی نور کے بجھادینے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔اور ان کی عملی حالت ایسی ناگفتہ بہ ہے کہ حافظ شیرازی کا یہ شعر ؎ واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند چوں بخلوت مے روند آں کار دیگر می کنند شاید انہی علماء کے واسطے لکھا گیا تھا۔پھر ان سے دوسرے طبقہ کے لوگ جو امر اء ہیں ان کا جو حال ہے وہ بھی اظہر من الشمس ہے وہ تو دین سے بے تعلق ہیں۔ان کو اپنے عیش و عشرت سے ہی فرصت نصیب نہیں۔اگر فرصت نصیب ہو گی تو شطرنج کھیلنے میں گذار دیں گے۔پھر اگر تیسرے طبقہ کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا جاوے جو کہ عوام ہیں تو اور بھی اسلام کی غربت اور نازک حالت پر رحم آتا ہے۔جیل خانوں میں مسلمان بھر ے پڑے ہیں۔شراب خانوں میں مسلمان خراب ہو رہے ہیں۔طوائف کے رنگ میں مسلمان کہلانے والے ہی بدحال ہیں۔غرض ہرفسق وفجور اور معاصی اور گناہ کی مجلس میں غور سے دیکھو تو مسلمانوں کا نمبر بڑھا ہواہے۔