ملفوظات (جلد 10) — Page 252
نہ ہی خدا کی طاقت پر پورا بھروسہ ہے۔خود داری بھی ایک حد تک اچھی ہوتی ہے مگر جہاں ایمان جائے وہاں ایسی باتوں کا کیا خیال۔حالانکہ ہمارا تجربہ بتلاتا ہے کہ گورنمنٹ کو مذہب سے تعلق ہی کوئی نہیں۔دیکھو! ہم نے عیسائیوں کے خلاف کتنی کتابیں لکھی ہیں اور کس طرح کے زور سے ان کے عقائد باطلہ کا ردّ کیا ہے مگر گورنمنٹ میں یہ بڑی بھاری خوبی ہے کہ کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کیاگیا۔اصل وجہ اپنی ہی کمزوری ہوتی ہے ورنہ گورنمنٹ دین کے معاملات میں کبھی بھی دست اندازی نہیں کرتی۔دیکھو! ہمارے اس مقدمہ کی طرف ہی غور کرکے دیکھ لو کہ کس دیانت داری اور انصاف سے اس کا فیصلہ کیاگیا۔امرتسر سے چالیس ہزار روپے کی ضمانت پر وارنٹ نکالا گیا۔مگر خدا کی قدرت وہ کتاب ہی میں پڑا رہ گیا اور بعد میں اس حاکم کو معلوم ہوا کہ وہ ایسا کرنے کا مجاز بھی نہ تھا مگر خدا کا تصرّف جو ہمیشہ اپنے فرستادوں کے واسطے رنگا رنگ طرزوں میں ظاہر ہوا کرتا ہے۔اس نے اس خطرناک وقت میں بھی ہماری نصرت کی۔پھر مقدمہ تبدیل ہو کر معاً گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں آگیا۔جس نے کوئی وارنٹ نہ نکالا اور ہمیں بلوا کر بڑے احترام اور عزت سے ہمارے ساتھ سلوک کر تا رہا۔ہماری غرض اس اَمر کے اظہار سے صرف یہی ہے کہ اوّل تو گورنمنٹ پر مذہبی معاملات کی وجہ سے مخالف ہو یا موافق کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ کیا جاتا ہے جو انصاف اور دیانت کا تقاضا ہو۔دوسرے یہ کہ خدا کا تعلق ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے ہر مشکل کے وقت اسے تسلّی اور ہر بلا سے نجات عطا کی جاتی ہے۔جو خدا کا ہو جاتا ہے۔خدا بھی پھر ہر بات میں اس کا پاس کرتا ہے۔ایسے لوگ مومن کہلانے کے مستحق نہیں ہیں جو دنیا کے خطرا ت اورتفکرات میں ہی غرق ہوں اور خدا کا خانہ بالکل خالی پڑا رہے۔مومن وہ کہلاتا ہے کہ ہلاکت کے قریب بھی پہنچ جاوے مگر خدا کو نہ چھوڑے۔ایمان کا یہ ایک نشان ہے کہ آخر تک کل امور اسی کے ہاتھ میں یقین کرے اور ناامید نہ ہو۔بادشاہ اور خلیفۃ المسلمین اور امیر المؤمنین کہلا کر بھی خدا کی طرف سے بے پروائی اچھی بات نہیں۔مخلوق سے اتنا ڈرنا کہ گویا خد ا کو قادر ہی نہیں سمجھنا۔یہ ایک قسم کی سخت کمزوری ہے۔لوگ کہتے