ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 251

صادق انسان مانا گیا اور کیسی قبولیت ہوئی دنیا جانتی ہے۔یہ صرف انہی پر نہیں بلکہ تمام اولیاء کے ساتھ یہی سلوک ہوتا چلا آیا ہے۔غرض اسی منہاج پر مجھے بھی تمام پنجاب اور ہندوستان کے علماء نے کافر، دجّال، فاسق، فاجر وغیرہ کے خطاب دئیے ہیں اور کہتے ہیں کہ نعوذباللہ میں انبیاء کو گالیاں دیتا ہوں حالانکہ میں ان تمام انبیاء کی عزت کرتاہوں اور ان کی عظمت اور صداقت ظاہر کرنے کے واسطے ہی میری بعثت ہوئی ہے۔یقین جانو کہ اگر میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور میں ہی جھوٹا ہوں تو پھر تمام انبیاء میں سے کسی کی نبوت کو کوئی ثابت نہیں کر سکتا۔اگر حضرت عیسٰی ؑ کی وفات کا ذکر کرنا گالیاں دینا ہے تو پھر سب سے پہلے جس نے حضرت عیسٰی ؑ کو گالی دی وہ خدا ہے۔مصلح کی ضرورت میر امطلب یہ ہے کہ ہمیشہ سے ایسا سلسلہ چلا آیا ہے کہ جب دنیا میں حق اللہ اور حق العباد کی پروا دلوں سے اٹھ جاتی ہے۔اور ظلم اور تعدی انسانوں کا شیوہ ہو جاتا ہے۔اور لو گ اپنے خالق اور معبود حقیقی سے منہ پھیر کر سینکڑوں بُت اپنے واسطے تجویز کر لیتے ہیں اور انبیاء کی تعلیم لوگ بھول جاتے ہیں۔ایسے خطرناک وقت میں اللہ تعالیٰ ایک روحانی سلسلہ پیدا کر کے ان سب مفاسد کی اصلاح کرتا ہے۔آج بھی اگر کسی انسان میں فراست موجود ہے تو دیکھ سکتا ہے کہ کیا اسلام کی حالت اس خطرناک حالت تک پہنچی ہے یا کہ نہیں؟ جس وقت خدا اس کی خبر گیری کرے۔زمانہ خود پکار پکار کر کہ زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ مصلح کی ضرورت ہے۔مسلمان حکمرانوں کی حالت مسلمانوں کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔معمولی مسلمان تو کسی شمار میں ہی نہیں۔جو لوگ بادشاہ کہلاتے ہیں اور خلیفۃ المسلمین، امیر المؤمنین ہیں۔خود ان کا حال ایسا ہے کہ باوجود بادشاہ ہونے کے ان کو اتنی جرأت نہیں کہ ان کی سلطنت میں کوئی شخص جرأت اور آزادی سے اظہار حق بھی کر سکے۔سلطان روم کی سلطنت میں کوئی چار سطر بھی مذہب عیسوی کے خلاف نہیں لکھ سکتا۔شاید یہ خیال ہوگا کہ تمام عیسائی سلطنتیں ناراض ہو کر سلطنت چھین لیں گی مگر خدا کی سلطنت کا ذرّہ بھی خیال نہیں اور