ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 240

کی مہر اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔رئیس المتصوّفین حضرت ابنِ عربی کہتے ہیں کہ نبوت کا بند ہوجانا اور اسلام کا مَرجانا ایک ہی بات ہے۔دیکھو حضرت موسٰی کے زمانہ میں تو عورتوں کو بھی الہام ہوتا تھا۔چنانچہ خود حضرت موسٰی کی ماں سے بھی خدا نے کلام کیا ہے۔وہ دین ہی کیاہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اس کے برکات اور فیوض آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں۔اگر اب بھی خدا اسی طرح سنتا ہے جس طرح پہلے زمانہ میں سنتا تھا اور اسی طرح سے دیکھتا ہے جس طرح پہلے دیکھتا تھا تو کیا وجہ ہے کہ جب پہلے زمانہ میں سننے اور دیکھنے کی طرح صفت تکلّم بھی موجود تھی تواب کیوں مفقود ہوگئی؟ اگر ایسا ہی ہے تو کیا اندیشہ نہیں کہ کسی وقت خدا کی صفت سننے کی اور دیکھنے کی بھی معزولی ہو جاوے۔افسوس ایسے بیہودہ خیالات پر۔خدا جس طرح سے پہلے تمام انبیاء کے ساتھ بولتا تھا اور کلام کرتا تھا اسی طرح اب بھی بولتا ہے۔چنانچہ ہم خود اس ثبوت کے واسطے موجود ہیں۔یقین جانو کہ جس طرح خد ا دیکھتا ہے اور سنتا ہے اسی طرح کلام بھی کرتا ہے۔بجز اس کے کہ خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کو اسلام میں ہمیشہ کے واسطے مانا جاوے اسلام کی زندگی ہی نہیں رہتی اور کبھی عزت ہی نہیں پاسکتا اور اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک بے فیض اور بے برکت مُردہ مذہب رہ جاتا ہے۔آپ اگر آج اس وقت اس بات کو نہ سمجھو گے تو پھر کسی دوسرے وقت میں سمجھ جائو گے۔اس کے مانے بغیر تو پھر اسلام رہ ہی نہیں سکتا اور آپ کو بھی مانے بغیر چارہ نہیں ہو گا۔اگر فطرت ہی کسی کی بےپرواہو تو فطری نقص کو تو کوئی دور کر نہیں سکتا۔ورنہ اگر فطرت سلیم ہے تو پھر کبھی نہ کبھی کشاں کشاں ادھر آہی جاوے گا۔سوال کیا گیا کہ کیا ایک ہی وقت میں کئی نبی ہو سکتے ہیں؟ فرمایا۔ہاں۔خواہ ایک ہی وقت میں ہزار بھی ہوسکتے ہیں۔مگر چاہیے ثبوت اور نشانِ صداقت۔ہم انکار نہیں کرتے۔