ملفوظات (جلد 10) — Page 236
سارے گندوں کو دھو ڈالتا ہے اور سفلی زندگی کے تمام تعلقات ان سے الگ کر دئیے جاتے ہیں اور گناہ کی آگ کی بھڑک ہمیشہ کے واسطے ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔مگر یادرکھو صرف یہی اَمر نیکی اور خوبی نہیں ہے۔ایک شخص کا ہمیں واقعہ یاد ہے کہ اس کی کسی نے دعوت کی اور کھانا وغیرہ کھلا چکنے کے بعد میزبان نے اپنے مہمان کی خدمت میں عذر کیا کہ میں جیسا کہ آپ کی خدمت کا حق تھاادا نہیں کر سکا یعنی جیسا کہ قاعدہ ہے اپنی طرف سے معذرت کی۔مگر مہمان کچھ ایسا شوریدہ مغز تھا کہ میزبان کی اس بات سے بھڑک اٹھا اور کہنے لگا کہ کیا تم مجھ پر اس طرح سے اپنا احسان جتانا چاہتے ہو۔تمہارا نہیں بلکہ میرا تم پر بہت بھاری احسان ہے۔میزبان نے فرمایا کہ یہ اور خوشی کی بات ہے میں وہ بھی جاننا چاہتا ہوں تو اس مہمان نے کہا کہ دیکھو! جب تم سامان مہمان داری میں مصروف تھے اور میری طرف سے بالکل بے خبر تھے میں تنہا اس جگہ موجود تھا اگر میں تمہارے اس مکان میں آگ لگا دیتا تو تمہار اکتنا نقصان ہوتا۔پس میں نے تم پر احسان کیا ہے نہ کہ تم نے۔غرض ترکِ شرّ کی یہ ایک مثال ہے مگر یاد رکھو کہ خدا کے سامنے ایسی مثال کوئی پیش نہیں کرسکتا۔وہاں تو جیسا کرے گا ویسا پائے گا۔ترکِ ذنوب کو اللہ تعالیٰ نے شربت کا فوری کی ملونی سے تشبیہ دی ہے۔اس کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ انسان کو شربت زنجبیل پلایا جاوے۔زنجبیل سونٹھ کو کہتے ہیں۔زنجبیل مرکب ہے لفظ زَنَا اور جَبَل سے۔زنجبیل کی تاثیر ہے کہ حرارت غریزی کو بڑھاتی ہے اور لغوی معنے اس کے ہیں پہاڑ پر چڑھنا۔اس میں جو نکتہ رکھا گیا ہے۔وہ یہ ہے کہ جس طرح سے پہاڑ پر چڑھنا مشکل کام ہے اور وہ اس مقوی چیز کے استعمال سے آسان ہو جاتا ہے اسی طرح روحانی نیکی کے پہاڑ پر چڑھنا بھی سخت دشوار ہے۔وہ روحانی شربت زنجبیل سے آسان ہو جاتا ہے۔خالص اعمال محض لِلہ اخلاص اور ثواب کے ماتحت بجالانا بھی ایک پہاڑ ہے اور سخت دشوار گذار گھاٹی سے مشابہ ہے۔ہر ایک پائوں کا یہ کام نہیں کہ وہاں پہنچ سکے۔دیکھو! دنیوی امور میں تو ایک ظاہر نتیجہ مدّنظر ہوتا ہے۔اور اَمر مخصوص کے واسطے کوشش کی جاتی ہے اور ضمیر میں ایک خاص غرض اور