ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 235

جب تک کہاں ہو سکتا ہے کہ سچا ایمان حاصل ہو؟ دیکھو! ایمان کی دو ہی نشانیاں ہیں۔اوّل درجہ یہ ہے کہ گناہ کو انسان چھوڑ دے اور ایسی حالت اس کو میسر آجاوے کہ گناہ کرنا گویا آ گ میں پڑنا ہے یا کسی کالے سانپ کے منہ میں انگلی دینا ہے یا کوئی خطرناک زہر کا پیالہ پینے کے برابر ہے۔پھر یادر کھو کہ صرف ترکِ شر ہی نیکی نہیں ہے۔نیکی اس میں ہے کہ ترک شر کے ساتھ ہی کسبِ خیر بھی ہو۔ترکِ گناہ میں جب انسان اس درجہ تک ترقی کر جاوے تو پھر چاہیے کہ خدا کے منشا کے موافق سنّت رسول پر بڑی سرگرمی سے نیک اعمال کو بجا لاوے اور کوئی روک اس کی طبیعت میں پیدا نہ ہو اور انشراح صدر سے نیکی کرنے پر قادر ہو جاوے۔دیکھو! بعض لوگ فطرتاً ہی ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں بعض قسم کے معاصی کے ارتکاب کی طاقت اورمادہ ہی نہیں ہوتا۔کیا ایک ایسا شخص جس کو قوت رجولیت دی ہی نہیں گئی یہ شیخی مار سکتا ہے کہ میں زنا نہیں کرتا۔یا وہ جس کو دن بھر میں دوپیسے کی روٹی بھی مشکل سے میسر آئی ہے دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں شراب نہیں پیتا۔یا ایک ضعیف ناتواں کس مپرس جو کہ خود ہی ذلیل وخوار پھرتا ہے کہہ سکتا ہے کہ میں ہمیشہ صبر اور تحمل اور بردباری کرتا ہوں اور کسی کا مقابلہ نہیں کرتا، عفو کرتا ہوں، غر ض بعض لوگ فطرتاً ہی ایسے پیدا ہوتے ہیں کہ وہ بعض گناہوں پر قادر ہی نہیں ہو سکتے۔ممکن ہے کہ بعض سادہ لوح انسان ایسے بھی ہوں کہ جنہوں نے عمر بھر میں کوئی بھی گناہ نہ کیا ہو۔پس صرف ترکِ ذنوب ہی نیکی کی شرط نہیں بلکہ کسبِ خیر بھی اعلیٰ جزو ہے۔کوئی انسان کامل نہیں ہو سکتا جب تک دونوں قسم کے شربت پی نہیں لیتا۔سورۂ دہر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایک شربت کا فوری ہوتا ہے اور دوسراشربت زنجبیلی۔یہ مقربوں اور برگزیدہ لوگوں کو دونوں شربت پلائے جاتے ہیں۔کافوری شربت کے پینے سے انسا ن کا دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور گناہ کے قویٰ ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔کافور میں گندے مواد کے دبانے کی تاثیر ہے۔پس وہ لوگ جن کو شربت کافوری پلایا جاتا ہے۔ان کے گناہ والے قویٰ بالکل دب ہی جاتے ہیں اور پھر ان سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہی نہیں اور ایک قسم کی سکینت جس کو شانتی کہتے ہیں میسر آجاتی ہے اور ایک نور پانی کی طرح اترتا ہے جو ان کے سینے میں