ملفوظات (جلد 10) — Page 234
اور ایک عظیم الشان انقلاب واقع ہوتا ہے۔غرض اسی سنّتِ قدیمہ کے مطابق ہمارا یہ سلسلہ قائم ہوا ہے۔یاد رکھو کہ ایمان ہی ایمان کو پہچانتا ہے اور روشنی سے روشنی کی شناخت ہوتی ہے سورج دنیا میں موجود ہے مگر جس کی آنکھ میں ہی نور نہ ہو وہ سور ج سے فائدہ ہی کیا اُٹھا سکتا ہے؟ منہ سے یہ دعویٰ کر دینا کہ ہمیں کسی امام یا مصلح کی کیا ضرورت ہے؟ بڑا خطر ناک ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ خدا کے پانے کے واسطے بڑے بڑے سخت مشکلات اور دشوار گذار گھاٹیاں ہیں۔ایمان صرف اسی کانام نہیں ہے کہ زبان سے کلمہ پڑھ لیا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔ایمان ایک نہایت باریک اور گہرا راز ہے اور ایک ایسے یقین کانام ہے جس سے جذباتِ نفسانیہ انسان سے دور ہو جاویں اور ایک گناہ سوز حالت انسان کے اندر پیدا ہو جاوے۔جن کے وجود میں ایمان کا سچا نور اور حقیقی معرفت پیدا ہو جاتی ہے ان کی حالت ہی کچھ الگ ہوجاتی ہے اور وہ دنیا کے معمولی لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ممتاز ہو تے ہیں۔کوئی ایک گناہ چھوڑ کر ایسا مغرور ہو جانا اور مطمئن ہو جانا کہ بس اب ہم مومن بن گئے اور تمام مدارجِ ایمان ہم نے طے کرلئے یہ ایک اپنا خیال ہے۔دیکھو! انسان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ ہمیشہ ایک حالت پر قائم نہیں رہتی۔پس جب تک لمبے تجربہ اور استقامت سے یہ اَمربپایہءِ ثبوت نہ پہنچ جاوے کہ واقعی اب تم نے خدا کو مقدم کر لیا ہے اور تمہاری حالت گناہ سوز مستقل ہو گئی ہے اور تم کو نفس امّارہ اور لوّامہ سے نکل کر نفسِ مطمئنّہ عطا کیا گیا ہے اور عملی طور سے سچی پاکیزگی تم نے حاصل کر لی ہے تب تک مطمئن ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ترکِ شر اور کسبِ خیر کے مراتب دیکھو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى (الاعلٰی:۱۵) فلاح وہ شخص پاوے گا جو اپنے نفس میں پوری پاکیزگی اور تقویٰ طہارت پیدا کر لے اور گناہ اور معاصی کے ارتکاب کا کبھی بھی اس میں دورہ نہ ہو اور ترکِ شر اور کسبِ خیر کے دونوں مراتب پورے طور سے یہ شخص طے کرلے تب جا کر کہیں اسے فلاح نصیب ہو تی ہے۔ایمان کوئی آسان سی بات نہیں۔جب تک انسان مَر ہی نہ جاوے