ملفوظات (جلد 10) — Page 231
طرف میر ی کتابوں کو لے لو جن میں یہ پیشگوئی بڑی بسط سے درج ہے پھر مقابلہ کرو کہ کون سا خدا کا کلام ہے اور کون سا شیطان کا؟ اگر میرا نطق خدا کی طرف سے اور خدا کے حکم سے نہ ہوتا تو کیا ممکن نہ تھا کہ میں ہی مَر جاتا اور وہ زندہ رہتا کیونکہ ظاہر اسباب اس بات کے متقاضی تھے۔میں اس کی نسبت عمر میں زیادہ تھا اور پھر بیماری میرے لاحق حال تھی مگر بر خلاف اس کے وہ مضبوط و توانا اور تندرست تھا۔یہی نہیں بلکہ اس کے سوا اور بھی جس جس نے مباہلہ کیا وہی ذلیل ہوا۔ہلاک ہوا۔غلام دستگیر قصوری، محی الدین لکھو کے والا۔ان لوگوں نے مباہلہ کئے اور خود ہی ہلاک ہو کر ہماری صداقت پر ہمیشہ کے واسطے مہریں کر گئے۔مولوی چراغ دین جموں والا نے میری نسبت پیشگوئی کی کہ طاعون سے مَرے گا اور مباہلہ کیا۔مگر دیکھو خود ہی طاعون سے مَرا۔ایک فقیر مرزا تھا۔اس نے بھی اعلان کیا تھا کہ مرزا رمضان کے مہینے میں مَر جائے گا۔مجھے عرش سے یہ خبر دی گئی ہے۔آخر جب وہ رمضان کا مہینہ آیا تو خود ہلاک ہو گیا۔بابو الٰہی بخش صاحب نے بھی ہماری نسبت اپنی کتاب میں طاعون سے مَرنے کی پیشگوئی کی تھی مگر آپ لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ کس طرح مَرے۔اب بتائو کہ معجزات کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ڈوئی جو سمندروں کے پار بیٹھا تھا جب وہ ہمارے مقابلہ میں آیا اور ہم نے خدا سے خبر پا کر اس کے واسطے اس کی پُر حسرت ہلاکت کے واسطے پیشگوئی کی تو فوراً اس پر آثار ادبار ظاہر ہو نے شروع ہو گئے اور آخر کار بڑی نامرادی سے مفلوج ہو کر اور طرح طرح کے دکھ اور ذلّتیں دیکھتا ہوا ہلاک ہو گیا۔غرضیکہ اگر نشانات کی ایک کتاب بنائی جاوے تو یقین ہے کہ پچاس جزو کی ایک کتاب تیار ہو۔دیکھو! عبداللہ آتھم بھلا اب کہاں ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے واسطے کوئی نیامعجزہ دکھائو۔خدائی نشانات کیا باسی ہو گئے ہیں اور وہ ردّی ہو گئے ہیں کہ ان کو ردّ کر دیا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے نشانات مانگے جاتے ہیں؟ خدا کسی کا ماتحت ہو کر نہیں چلنا چاہتا کہ وہ کسی کی مرضی کا تابع ہو۔وہ نشان دکھا رہا ہے مگر اپنی مرضی کے موافق دکھاتا ہے۔کیا ان سے تسلّی نہیں ہو تی کہ اور مانگے جاتے ہیں؟ الغر ض قرآن شریف میں آخری زمانہ کے موعود کانام خلیفہ رکھا گیا ہے اور احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم