ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 232

میں مسیحؑ کے نام سے اس کو یاد کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمارے دو نام رکھے ہیں جو کہ ہماری کتاب میں جس کو عرصہ چھبیس سال ہو گیا چھپ کر شائع ہو گئی اور دوست دشمن کے ہاتھ میں موجود ہے۔چنانچہ ہمارے ایک الہام میں یوں آیا ہے اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً اور ایک دوسرے الہام میں ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ۔غرض حدیث اور قرآن شریف کے روسے اللہ تعالیٰ نے ہمارا ہی یہ نام رکھا ہے اور آنے والا موعودؑ ہمیں ہی مقر ر فرمایا ہے۔مسیح ناصری تو مَر گیا اور قرآن شریف میںباربار اس کی وفات کا ذکر بڑے زور سے کیا گیا ہے۔وہ تو اب کسی طرح زندہ ہو ہی نہیں سکتا۔جب اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسر ے کو بٹھا دیا تو اب بھی اس کا انتظار کرنا کیسی نادانی اور جہالت ہے۔میرا مدعایہ ہے کہ لوگ جو اس معاملہ میں بحث کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارے منہ مانگے نشان دیئے جاویں۔دیکھو! صد ہانبی ایسے بھی آئے کہ ان کی پیشگوئی کسی پہلی کتاب میں نہیں کی گئی۔اصل بات یہ ہے کہ سچے نبی کے ساتھ خدا کی ہیبت ہوتی ہے اور جو خدا کی طرف سے آتا ہے اس کے ساتھ خدا ئی نشان اور تائید کا علَم لازمی طور سے ہوتا ہے۔دیکھو! بائبل، انجیل، قرآن، حدیث میں جن معجزات کا ذکر ہے دشمن ان کو نہ ماننے کے کئی وجوہ پیدا کرسکتا ہے۔تحریف تبدیل کا الزام لگا سکتا ہے اور اَور رنگ کے دوسرے پہلو کے معنے کر سکتا ہے۔غرضیکہ گذشتہ امور پر ہی اگر فیصلہ کا انحصار اور دارومدار ہو تو اس میں بڑی مشکلات پیش آسکتی ہیں، مگر اللہ تعالیٰ ہر گز پسند نہیں کرتا کہ حق و باطل میں خلط ہو اور حق دنیا پر مشتبہ رہے اسی واسطے اس کی سنّت ہے کہ وہ تازہ بتازہ نشانات سے اَمرِ حق کا ہمیشہ اظہار کرتا رہا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی جبکہ خدا نے ہمیں مامور کر کے بھیجا اور مسیح موعودؑ اور خاتم الخلفاء ہمارا نام رکھا تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ قُلْ عِنْدِيْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ الخیعنی ساتھ ہی اپنی شہادت اور گواہی بھی عطا فرمائی۔پس اس وقت ہمارے ساتھ بھی خدائی شہادت موجود ہے، کوئی بھی اعتراض جو منہاج نبوت پر قرآن اور حدیث کی روسے کیا