ملفوظات (جلد 10) — Page 224
صرف نرازبانی دعویٰ قابل پذیرائی نہیں ہوتا۔منجملہ اورعلامات کے جو ہمارے آنے کے واسطے اللہ اور رسول کی کتابوں میں مندرج ہیں ایک اونٹوں کی سواریوں کا معطل ہوجانا بھی ہے۔چنانچہ اس مضمون کو قرآن شریف نے بالفاظ ذیل تعبیر کیا ہےوَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ(التکویر:۵) اورحدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ وَلَیُتْـرَکُنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْـھَا۔اب سوچنے والے کو چاہیے کہ ان امور میں جو آج سے تیرہ ۱۳۰۰سوبرس پیشتر خدااوراس کے رسول کے منہ سے نکلے اوراس وقت وہ الفاظ بڑی شان اورشوکت سے پورے ہوکر اپنے کہنے والوں کے جلال کا اظہار کررہے ہیں۔دیکھئے! اب اس پیشگوئی کے پوراہونے کے کیسے کیسے سامان پیدا ہورہے ہیں حتی کہ حجاز ریلوے کے تیار ہوجانے پر مکہ معظمہ اورمدینہ منورہ کے سفر بھی بجائے اونٹ کے ریل کے ذریعہ ہواکریں گے اور اونٹنیاں بیکار ہوجاویں گی۔رہی یہ بات کہ ان پیشگوئیوں کو مسیح موعود کے لفظ سے کیا تعلق ہے کیونکہ قرآن شریف میں تومسیح موعودؑ کا نام کہیں نہیںآیا۔سواس کے واسطے یادرکھنا چاہیے کہ ہم خاتم الخلفا ء ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اورخاتم الخلفاء کاقربِ قیامت کے وقت ظہور ہونے کا وعدہ قرآن شریف میں موجود ہے۔پھر ہمیں باربار بذریعہ الہام الٰہی اس اَمر کی بھی اطلاع دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑ بھی ہمارا ہی نام رکھا ہے جس کے آنے کے متعلق احادیث میں وعدہ تھا۔یادرکھو کہ جو شخص احادیث کو ردّی کی طرح پھینک دیتا ہے وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلام کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے کہ جو بغیر مدد احادیث ادھورا رہ جاتا ہے۔جوکہتا ہے کہ مجھے احادیث کی ضرورت نہیں وہ ہرگز مومن نہیں ہوسکتا۔اسے ایک دن قرآن کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔پس قرآن شریف میں جس شخص کا نام خاتم الخلفا ء رکھا گیا ہے اسی کانام احادیث میں مسیح موعود رکھا گیا ہے اوراس طرح سے دونوں ناموں کے متعلق جتنی پیشگوئیاں ہیں وہ ہمارے ہی متعلق ہیں۔خلیفہ کہتے ہیں پیچھے آنے والے کو اور کامل وہ ہے جو سب سے پیچھے آوے۔اورظاہر ہے کہ جو