ملفوظات (جلد 10) — Page 220
اور صنعت وحرفت والا اپنے کاروبار کو ترک کردے اور ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ جائے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ لَا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ (النّور:۳۸) والا معاملہ ہو۔دست باکار دل بایار والی بات ہو۔تاجر اپنے کاروبار تجارت میں اورزمیندار اپنے امور زراعت میں اوربادشاہ اپنے تخت حکومت پر بیٹھ کر، غرض جو جس کام میں ہے اپنے کاموں میں خدا کو نصب العین رکھے اور اس کی عظمت اورجبروت کو پیش نظر رکھ کر اس کے احکام اور اَمر و نواہی کا لحاظ رکھتے ہوئے جو چاہے کرے۔اللہ سے ڈر اور سب کچھ کر۔اسلام کہاں ایسی تعلیم دیتا ہے کہ تم کاروبار چھوڑ کر لنگڑے لولوں کی طرح نکمے بیٹھے رہو اوربجائے اس کے کہ اَوروں کی خدمت کرو خود دوسروں پر بوجھ بنو۔نہیں بلکہ سست ہونا گناہ ہے۔بھلا ایسا آدمی پھر خدا اوراس کے دین کی کیا خدمت کرسکے گا۔عیال واطفال جو خدا نے اس کے ذمے لگائے ہیں ان کو کہاں سے کھلائے گا؟ پس یاد رکھو کہ خدا کا یہ ہرگز منشا نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کردو۔بلکہ اس کو جو منشا ہے وہ یہ ہے کہ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (الشّمس:۱۰)تجارت کرو، زراعت کرو، ملازمت کرو اورحرفت کرو، جو چاہو کرو مگر نفس کو خدائی نافرمانی سے روکتے رہو اور ایسا تزکیہ کرو کہ یہ امور تمہیں خدا سے غافل نہ کردیں پھر جو تمہاری دنیا ہے وہ بھی دین کے حکم میں آجاوے گی۔انسان دنیا کے واسطے پیدا نہیں کیا گیا۔دل پاک ہواور ہر وقت یہ لَو اور تڑپ لگی ہوئی ہو کسی طرح خدا خوش ہوجائے توپھر دنیا بھی اس کے واسطے حلال ہے۔اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔۱ (بعد نماز جمعہ ) مسیح موعود ؑ کو ماننے کی ضرورت سوال کیا گیا کہ ہم اللہ اوراس کی کتاب قرآن شریف اوراس کے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدقِ دل سے مانتے ہیں اورنماز روزہ وغیرہ اعمال بھی بجالاتے ہیں۔پھر ہمیں کیا ضرورت ہے کہ آپ کو بھی مانیں؟ ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۹،۵۰ مورخہ ۲۶،۳۰ ؍اگست ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ ، ۴