ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 217

نہیں جاتی اور شہوات کی آگ بجھائی نہیں جاتی۔غفلت اوربے باکی کے آثار فرمایا۔جس قدر کسی کو دنیا کے سامانِ عیش وعشرت کثرت سے دیئے جاتے ہیں اسی قدر وہ خدا سے غافل اور بے پروا ہوکر متکبر ہوجاتے ہیںا ور اسی قدر اس کا تکبر بڑھ جاتا ہے۔امرتسر میں ہمیں پتھر مارے گئے۔سیالکوٹ میں ہمارے ساتھ کیا بُرا سلوک کیا گیا۔یہ سب غفلت اوربے باکی ہی کے آثارہیں۔ایک خدائی وعدہ فرمایا۔خدا نے ہمیں ایک پکا وعدہ دیا ہوا ہے۔اس میں ذرابھی شک نہیں اور وہ یہ ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ‘‘ اس الہام کے بعد وہ بادشاہ بھی دکھائے گئے تھے۔مسیحؑ کے مَرنے میں اسلام کی زندگی ہے فرمایا۔مسلمانوں کی خوش قسمتی ہی اسی میں ہے کہ مسیحؑ مَرجائے۔اب زمانہ ہی ایسا آگیا ہے کہ خیال تبدیل ہوتے ہیں۔کچھ مان جائیں گے کچھ مَرجائیں گے۔باقی ایسے ضعیف ہوجائیں گے کہ ان کو طاقت ہی نہ رہے گی اور ان کا عدم وجود برابر ہوگا۔پس مسیح کو مَرنے دوکہ اسلام کی زندگی اسی میں ہے۔فروتنی کرنے والا خدا کا محبوب ہوتا ہے فرمایا۔متکبّر خدا کے تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے پس اس قبیح خصلت سے ہمیشہ پناہ مانگو۔خدا تعالیٰ کے تمام وعدے بھی خواہ تمہارے ساتھ ہوں مگر تم جب بھی فروتنی کرو کیونکہ فروتنی کرنے والا ہی خدا کا محبوب ہوتا ہے۔دیکھو! ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیاں اگر چہ ایسی تھیں کہ تمام انبیائے سابقین میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔مگر آپؐکو خدا تعالیٰ نے جیسی جیسی کامیابیاں عطا کیں آپ اتنی ہی فروتنی اختیار کرتے گئے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص حضورؐ کے حضور پکڑ کر لایا گیا۔آپ نے دیکھا تو وہ بہت کانپتا تھا