ملفوظات (جلد 10) — Page 215
کے واسطے حضوری میں حاضر کھڑے تھے۔لوگ آتے اورزیارت کرکر کے چلے جاتے تھے۔اہلِ ہنود اور سکھ صاحبان اپنے طرز میں اور مسلمان اپنے طریق سے سلام ونیاز عرض کرتے تھے۔پلیٹ فارم کی جانب پلیٹ فارم پر اورگاڑی کے دوسرے پہلو سے لوگ پائیدانوں پر کھڑے کھڑکیوں میں سے حضور پُر نور کی صورت دیکھنے کے واسطے شوق سے جھانکتے تھے۔سیری کسی کو نہ ہوتی تھی۔اتنے میں ایک مسلمان صاحب معہ چند آدمیوں کے تشریف لائے۔حضرت اقدس نے ان کو گاڑی کے اندر بلاکر اپنے پاس بٹھا لیا اور ان کے سوال پر ان کو یوں مخاطب فرمایا۔وفات وحیاتِ مسیح میںقرآن کریم سے فیصلہ لینا چاہیے خدا کی شہادت سب سے پہلے زیادہ معتبر ہے خدا کاپاک کلام قرآن شریف ہمارے پاس موجود ہے۔مسائل مختلفہ میں فیصلہ کرنے اور حق پانے کے واسطے مسلمانوں کو اوّل قرآن شریف ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ ابدی کی کوئی دلیل اگر ان کے پاس ہے تو ان کو چاہیے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت پیش کریں۔مگر قرآن شریف میں جب ہم اس غرض کے لئے غور کرتے ہیں تو ہمیں تو ان کے حق میں خدا کا یہی کلام ملتا ہے کہ اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ ( اٰل عـمران:۵۶) فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المآئدۃ :۱۱۸) اب جائے غور ہے کہ آیا یہ لفظ قرآن شریف میں کسی اور نبی کے حق میں بھی آیا ہے یا کہ نہیں ؟سو ہم صاف پاتے ہیں کہ اورانبیاء اورہمارے سید ومولیٰ محمد مجتبیٰ احمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی یہی لفظ تَوَفّی کا استعمال ہوا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ ( یونس:۴۷) اورپھر حضرت یوسف علیہ السلام کے حق میں بھی یہی لفظ نظر آتا ہے تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ (یوسف:۱۰۲) اب ہم پوچھتے ہیں کہ ہمیں کوئی اس خصوصیت کی وجہ تو بتادے کہ کیوں یہ لفظ اور انبیاء پر تو موت کے معنوں میں وارد ہوتا ہے اورکیوں حضرت عیسٰیؑ کے حق میں آوے تولفظ کی یہ خاصیت بدل جاتی ہے اوریہ لفظ موت کے معنے نہیں دیتا؟ ان کو چاہیے کہ تعصب کو الگ کرکے ایک گھڑی بھرکے لئے حق جُو ہوکر اس میں غورکریں۔