ملفوظات (جلد 10) — Page 199
روزے نہیں رکھتا، یہ ہے، وہ ہے، اس کو کافر کہنا چاہیے یا نہیں۔وہ احمد ی ہے یا نہیں ؟ فرمایا۔اس کو کہنا چاہیے کہ تم اپنے آپ کو سنبھالو اور اپنی حالت کو درست کرو۔ہر شخص کامعاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ الگ ہے۔تم کو کس نے داروغہ بنایا ہے جو تم لوگوں کے اعمال پڑتا ل کرتے پھرو اوران پر کفر یا ایمان کا فتویٰ لگاتے پھرو۔مومن کا کام نہیں کہ بے فائدہ لوگوں کے پیچھے پڑتا رہے۔مشورہ بابرکت ہوتا ہے ایک صاحب کے ایک خوفناک جگہ پر مکان بنوانے اوربسبب کمی روپیہ تعمیر مکان کو پورانہ کرسکنے کا ذکر تھا۔فرمایا۔افسوس ہے کہ بعض لوگ پہلے مشورہ نہیں کرلیتے۔مشورہ ایک بڑی بابرکت چیز ہے۔اس پر حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ خود اپنے رسو ل کو حکم دیتا ہے کہ وہ مشورہ کیا کرے توپھر دوسروں کے لئے یہ حکم کس قدر زیادہ تاکید ہوسکتا ہے۔آجکل لوگوں کا یہ حال ہے کہ یا تو مشورہ پوچھتے نہیں یا پوچھتے ہیں تو پھر مانتے نہیں۔حضرت نے فرمایا کہ پھر ایسی بات کی لوگ سزابھی پاتے ہیں۔ایسوں کے حالات سے زیادہ تر وہ لوگ اب فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو عبرت حاصل کریں۔۱ بلاتاریخ اعلیٰ عہدہ پر فائز لوگوں کے لئے نصیحت فرمایا کہ آجکل کے نواب اورامراء عیاشی میں پڑے ہوئے ہیں۔دین کی طرف بالکل توجہ نہیں۔ہر قسم کے عیش وعشرت کے کاموںمیں مصروف ہیں مگر دین سے بالکل غافل ہیں اور دوسرے آدمی بھی جب ان کو کوئی بڑا عہد ہ ملتا ہے یا کسی اعلیٰ جگہ پر مقرر ہوتے ہیں تو پھر غافل ہوجاتے ہیں اور بالکل مخلوق کی بہتری کا خیال نہیں رہتا۔دنیا میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ۱بدرجلد۷نمبر ۱۶مورخہ ۲۳ ؍اپریل ۱۹۰۸ءصفحہ ۱۴