ملفوظات (جلد 10) — Page 196
صداقت کی ایک دلیل فرمایاکہ ہمارا معاملہ تو غور کرنے والوں کے واسطے بالکل صاف اور کھلا ہے۔عقلمند انسان کے واسطے تو اگر اور کوئی بھی معجزہ نہ ہو ( حالانکہ یہاں تو ہزاروں زمینی اور آسمانی نشانات اور تائیدات موجود ہیں) تو بھی اتنی مدت دراز تک ہمارے وجود کا ( ایسے زبر دست دعاوی اور ایسے خطر ناک حالات کے باوجود ) ابقاء ہی کافی ہے۔غور کا مقام ہے کہ ابھی تیرھویں صدی میں سے کچھ سال باقی تھے جب سے ہمارا دعویٰ ہے اور اب چودھویں صدی کے بھی چھبیس برس گذر چکے ہیں۔اندرونی بیرونی دشمنوں کی مخالفتیں اور جوشیلی تدابیر کے ساتھ ساتھ خود ہمارے اپنے وجود کی بعض خطرناک بیماریوں کے ہوتے ہوئے پھر بھی خدا نے ہمیں معجزانہ زندگی عطا کی ہے پھر خود ہی کہتے ہیں کہ آنحضرتؐکے واسطے تو ایک آدھ گھڑی کا افترا بھی خطرناک اور رگِ جان کے کٹ جانے کا باعث تھا مگر ہمیں خدا نے باوجود یکہ ہم ان کے زُعم میں مفتری ہیں برابر تیس۳۰ (برس) تک مہلت دی اور پھر یہی نہیں بلکہ ہزار ہا قسم کے زمینی آسمانی نشانوں سے ہمارے صدق دعویٰ کی تائید کی اور سارے معاملے ہمارے ساتھ صادقوں والے کئے۔ایک بھی ایسی بات نہ کی جو کاذبوں والی ہو۔پھر بایں خدا جانے ان کی عقلوں پر کیسی جہالت کے پردے پڑ گئے۔اور یہ کیوں نہیں سمجھتے۔۱ ۱۲؍اپریل ۱۹۰۸ ء فرمایا۔یہ زندگی کچھ شَے نہیں۔ذوالقرنین فرمایا۔وہ ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن شریف میں ہےاَور ہے اور سکندررومی اَور شخص ہے۔بعض لوگ ہر دو کو ایک سمجھتے ہیں۔صدیوں میں سے حصہ لینے والا ہے۔۲ ۱الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱تا۳ ۲ بدر جلد ۸ نمبر ۷تا ۹ مورخہ ۲۴،۳۱؍دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۳