ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 12

کیا یہ یونہی ہیں؟ اور کیا ان کی اصلیت کچھ بھی نہیں ؟ ہم کس سیر کے قائل ہیں حضرت اقدس نے فرمایا۔ایسی سیروں کا تو میں قائل ہی نہیں۔ہم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیر کے قائل ہیں۔جنہوں نے لاکھوں کروڑوں انسانوں کے سر جھکا دیئے۔قرآن مجید میں صاف لکھا ہے کہ شیطان کی طرف سے بھی وحی ہوتی ہے اور خدا کی طرف سے بھی ہوتی ہے۔جو وحی خدا کی طرف سے ہوتی ہے اس میں ایک تاجِ عزت پہنایا جاتا ہے اور خدا کے بڑے بڑے نشان اس کی تا ئید میں گواہ بن کرآتے ہیں۔سائیں صاحب نے آدابِ رسول کا لحا ظ نہ کرکے پھر قطع کلام کیا اور بولے کہ پھر میرے اختیار میں کیا ہے ؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ تم قال اللہ اور قال الرسول پر عمل کرو اور ایسی باتیں زبان پر نہ لاؤ جن کا تمہیں علم نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ( بنی اسـرآءیل :۳۷) تم نیکی کی طرف پورے زور سے مشغول ہو جاؤ اور اعمال صالحہ بجا لاؤ۔اگر تمہاری حالت اس لائق ہو گئی اور تم نے پورے طور پر اپنا تزکیہ نفس کر لیا تو پھر خدا کے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بھی حاصل ہو سکتا ہے۔اکثر لوگ آجکل ہلاک ہو رہے ہیں۔ان کی یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی حالت کا مطالعہ نہیں کرتے اور اس تعلق کو نہیں دیکھتے جو وہ خدا سے رکھتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ کس زور سے خدا کی طرف جا رہے ہیں اور کیسے کیسے مصائب آنے پر ثابت قدم نکلے ہیں اور ابتلاؤں میں پورے اُترے ہیں۔انسان کو چاہیے کہ اپنا فرض ادا کرے اور اعمالِ صالحہ میں ترقی کرے۔الہام کرنا اور رؤیا دکھانا یہ تو خدا کا فعل ہے۔اس پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔اپنے اعمال کو درست کرنا چاہیے۔خیر البر یّہ کون ہیں خد ا فرما تا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ( البیّنۃ :۸) یہ نہیں کہا کہ جن کو کشوف اور الہامات ہوتے ہیں