ملفوظات (جلد 10) — Page 189
کم عقلی کے اس کی حقیقت کو نہ سمجھنے کے باعث اعتراض کرنے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ ان سے اگر یہ سوال کیا جاوے کہ اورجو ہزارہا بیّن نشان موجود ہیں۔ان سے تم نے کیا فائدہ اٹھایا ہے؟ تویقیناً ان سے کوئی جواب بن نہیں آتا۔حالانکہ وہ اَمر جس کو وہ اپنی کم علمی کی وجہ سے نشانہ اعتراض بناتے ہیں عین سنّت اللہ کے موافق ایک اَمر ہوتا ہے اورکوئی بھی نبی نہیں گذرا جواس سنّت سے باہر رہا ہو۔پس اس سنّت سے انکار کرنے والے کا ایمان کیسے خطرے میں ہے! وہ صرف ہماری پیشگوئی پر ہی اعتراض نہیں کرتا بلکہ آنحضرتؐکی بھی تکذیب کرتا ہے اور بلکہ اس طرح سے تودوسرے تمام انبیاء کی بھی تکذیب لازم آتی ہے۔دیکھو! آنحضرتؐکا صلح حدیبیہ کا معاملہ جس میں بعض بڑے بڑے اکابر صحابہ ؓ کو بھی ٹھوکر لگ گئی تھی مگر پھر خدا نے ان کی دستگیری فرما کر ان کو بچالیا حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس میں شریک تھے۔پھر آنحضرتؐکا اس اَمر کا اظہار فرمانا کہ ابوجہل مسلمان ہوجاوے۱ گا۔ماسویٰ ان کے حضرت عیسٰیؑ کے بارہ حواریوں کے بارہ تختوں کا معاملہ۔حضرت یونس ؑ نبی کی قوم کا معاملہ۔حضرت موسٰی کی زندگی میں بھی ایسا معاملہ موجود ہے۔۲ تو پھر ہم حیران ہیں کہ ایسا معترض مسلمان کہلا کرکس کس بات کا انکار کرے گا۔یہ تو ایک بیہودہ بات ہے کہ جس بات کی سمجھ نہ آئی اس کا انکار کردیا۔دیکھو! ہماری اس پیشگوئی کی ایک ٹانگ تواسی وقت پیشگوئی کے عین مطابق ٹوٹ گئی۔جس کی وجہ سے ان لوگوں پر خوف طاری ہوا اورانہوںنے صدقہ اور خیرات سے اور اَورطرح سے عجزو انکسار، گریہ وبکا سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے بھی مطابق اپنی سنّت کے ان سے سلوک کیا۔دیکھو! ۱ بدر سے۔’’ابوجہل کی نسبت دیکھا گیا کہ بہشتی انگور کا خوشہ اس کو ملا ہے مگر وہ مسلمان نہ ہوا۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱۶مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴) ۲ بدرسے۔’’حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیاکہ اس ارض کے تم مالک ہوگے اور اس میں کئی برس گذر گئے۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱۶مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)