ملفوظات (جلد 10) — Page 190
حضرت یونس نبی کا قوم سے جو عذاب کا وعدہ ہوا تھا اس میں تو کوئی بھی شرط موجود نہ تھی اورصاف اور صریح الفاظ تھے کہ (چالیس۴۰ دن) کے بعد تم پر عذاب نازل ہوجاوے گا۔پس جب ایک غیر مشروط اور قطعی پیشگوئی کا توبہ اوراضطراب اورگریہ وبکا سے ٹل جانا سنّت اللہ کے مطابق ہے توپھر مشروط پیشگوئی پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے؟ جس میں صاف یہ الفاظ موجود ہیں تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَلَآءَ عَلٰی عَقِبِکِ۔۱ حضرت شاہ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی کتاب فتوح الغیب میں لکھتے ہیںکہ قَدْ یُوْعَدُ وَلَا یُوْفٰی کہ بعض وعدے خدا تعالیٰ کے ایسے بھی ہوتے ہیں جو وہ پورے نہیں کئے جاتے۔خود قرآن شریف میں مشابہات کا ذکر ہے۔مومن اورکافر میں ایسے مشابہات سے تمیز ہوجاتی ہے اورچھپے ہوئے مرتد اور منافق لوگوں کے الگ کرنے کا یہ ایک آلہ ہوتے ہیں۔خدا اگر متشابہات نہ رکھتا تودنیا دنیا ہی نہ رہتی۔منافق کا قاعدہ ہے کہ اس کو دریا بہتا ہوا نظر نہیں آتا اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ خس وخاشاک کی طرف جھک جاتا ہے اورمرتد ہوجاتا ہے۔اگر ہم منہاج نبوت سے باہر کوئی اَمر پیش کرتے ہوں اور کوئی نئی بات اپنی طرف سے پیش کرتے تواعتراض کا موقع بھی تھا۔قرآن شریف میں آیا ہے کہ لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ (الملک :۱۱) پس جس شخص نے نہ کبھی صحبت میں رہ کر ہماری باتوں کو سنا ہواور نہ خود منہاجِ نبوت کے ثبوت پر پرکھنے کی عقل ہووہ کیسے ہدایت پاسکتا ہے؟ ۲دیکھو موجودہ زمانے میں خدا نے اتنی کثرت سے زبردست نشانات کا ذخیرہ جمع کردیا ہے اورایسے ایسے اسبا ب مہیا کردیئے ہیں کہ اگر ایک لاکھ نبی بھی ان نشانات سے اپنی نبوت کا ثبوت کرناچاہے توکرسکے کیونکہ اس وقت نہ بدر سے۔’’جس سے صاف ظاہر ہے کہ توبہ سے یہ سب باتیں ٹل جاویں گی اوراحمدبیگ کی موت سے جو خوف ان پر چھا گیا اس نے پیشگوئی کے ایک حصہ کو ٹال دیا۔اصل بات یہ ہے۔خداہزارہا نشان دکھاکر بعض نشان ایسی حالت میں بھی رکھ لیتا ہے جو منافقین وغیرہ کے امتیاز کا موجب ہوں۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱۶مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴) ۲ بدر سے۔’’پس انجام اچھا نہیں معلوم ہوتا۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱۶مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)