ملفوظات (جلد 10) — Page 186
یہ کافی نہ تھا کہ ان کو خداکے ایک برگزیدہ بندے مان کر ان کی پیروی کی جاتی؟ اوران کے نقش قدم پر ان کا نمونہ اور رنگ اختیار کیا جاتا۔انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ خدابن جاوے تو پھر اسے ایسے نمونے کیوں دیئے جاتے ہیں؟ جب کسی کو کوئی نمونہ دیا جاتا ہے تواس سے نمونہ دینے والے کا یہ منشا ہوتا ہے کہ اس نمونہ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کی جاوے اورپھر وہ اس شخص کی طاقت میں بھی ہوتا ہے کہ اس نمونے کے مطابق ترقی کرسکے خداجو فطرتِ انسانی کا خالق ہے اوراسے انسانی قویٰ کے متعلق پوراعلم ہے اور کہ اس نے انسانی قویٰ میں یہ مادہ ہی نہیں رکھا کہ خدابھی بن سکے تو پھر کیوں اس نے ایسی صریح غلطی کھائی کہ جس کام کے کرنے کی طاقت ہی انسان کو نہیں دی اس کام کے کرنے کے واسطے اسے مجبور کیا جاتا۔کیا یہ ظلم صریح نہ ہوگا؟ رسالت اورنبوت کے درجہ تک توانسان ترقی کرسکتا ہے کیونکہ وہ انسانی طاقت میں ہے پس اگر حضرت عیسٰیؑ خدا تھے تو ان کا آنا ہی لاحاصل ٹھہرتا ہے اور اگر ان کو نبی اور رسول مانا جاوے توبے شک مفید ثابت ہوتا ہے۔پھر اس میں خدا تعالیٰ کی بھی ہتک اوربے ادبی لازم آتی ہے۔گویا خدا نے بخل کیا کہ اپنی تجلیات کا مظہر صرف ایک ہی شخص کو ٹھہرایا اوراپنے فیوض کو صرف حضرت عیسٰیؑ تک ہی محدود کردیا۔غور توکرو اگر کسی بادشاہ کی رعایا صرف ایک فرد واحد ہی ہو تو کیا اس میں اس بادشاہ کی تعریف ہے یا ہتک؟ یا اگر یہ کہا جاوے کہ بادشاہ کا فیض اورانعام صرف ایک خاص نفس واحد تک ہی محدود ہے توپھر اس میں اس بادشاہ کی کیا بڑائی ہوگی؟ پس جب خداکے کروڑوں بندے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود تھے تو کیا وجہ کہ خدا نے اپنے فیوض کو صرف بنی اسرائیل ہی تک محدود رکھا۔دیکھو! بند پانی بھی آخر کار گندہ ہوجاتا ہے اورکیچڑ کی صحبت سے اس میں ایک قسم تعفن پیدا ہوجاتا ہے توپھر خداکے اوپر ایسا بہتان باندھنا کہ اس کے فیوض اوربرکات صرف ایک خاص قوم تک ہی محدود اوربند ہیں خدا کی شان کی ہتک اوربے ادبی ہے۔حضرت عیسٰیؑ کے خدابنانے میں فائدہ کیا؟ اوران کی شان میں ترقی کیا؟ بلکہ الٹی اس میں تو ان