ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 185

قریب ہی موجود تھا۔حضرت حکیم الامت نے اسے آگے کردیا اور حضرت نے اسے بازو سے پکڑ کر ان لوگوں کے روبر وکرکے یوں فرمایا کہ ایک شخص نے جو کہ مولوی صاحب کا دشمن تھا اس نے آ پ کے متعلق یہ کہا تھا کہ آپ ابترہیں اوراشتہار بھی شائع کردیا تھا۔اس پر ہم نے دعاکی وہ جنابِ الٰہی میں قبول کی گئی اورہمیں بتایاگیا کہ لڑکا پیدا ہوگا اور اس کا یہ نشان ہوگا کہ اس کے بدن پر پھنسیاں ہوں گی اور یہ اس کی پیدائش کے چھ برس پہلے کا واقعہ ہے۔چنانچہ خدا کے فضل سے لڑکا پیدا ہوا اور اس کے بد ن پر پھنسیاں نکلیں جن کے داغ اب تک موجو د ہیں۔علاوہ ازیں اورایسے ہزاروں نمونے قبولیتِ دعا کے موجود ہیں۔سوال۔آپ کے آنے کامقصد کیا ہے اوراب آئندہ کیا ہوگا ؟ جواب۔فرمایاکہ ہمارے آنے کا یہ مقصد ہے کہ عیسائیوں ‘ہندوئوں اورمسلمانوں میں جو غلطیاں (خواہ وہ عملی ہوں یا اعتقادی ) پیدا ہوگئی ہیں ان کی اصلاح کی جاوے۔بھلا آپ ہی بتائیں کہ آیا عیسائیت یورپ میں اپنی اصلیت پر ہے ؟ یا عیسائیوں نے توریت یا انجیل کی تعلیم کے کسی نقطہ پر بھی عمل کیا ہے؟ تمام یورپ کی عملی حالت کیا کہہ رہی ہے؟ آیا ان لوگو ں کے دلوں میں خدا پر بھی ایمان ہے؟ اور کیا ان کو خدا کا خوف بھی ہے؟ (ان باتوں کے جوا ب میں انگریز نے صاف اقرار کیا کہ واقعی نہ توتوریت پر عمل ہے اورنہ ہی یورپ کی عملی حالت درست ہے ) فرمایا کہ ہمیں خدا نے بتایا ہے کہ حضرت مسیحؑ خداکے ایک برگزیدہ بندے اورنبی تھے۔یہ نہیں کہ وہی ایک ہی ایسا نمونہ تھے اورپھر خدا نے اپنا فیضان کسی پر نازل نہیں کیا اور ہمیشہ کے واسطے ایسی برکات کا دروازہ بند کردیا ہوبلکہ وہ خداجس کی شان بلند ہے اوروہ تمام ملکوں کا ایک اکیلا خدا ہے۔اس نے اپنے فیضان بھی تمام ملکوں پر کئے ہیں۔دیکھو! توریت چھوڑ دی گئی۔اس کی تعلیمات کی کچھ پروا نہیں کی جاتی۔اس میں ہزاروں غلطیاں لگائی گئی ہیں۔حضرت عیسٰیؑ کی شان کی بے ادبی کی جاتی ہے کیونکہ ان کو خواہ نخواہ خدابنایا جاتا ہے۔کیا