ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 11

وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ ( الرّعد : ۴۴ ) یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ تُو خدا کا رسول نہیں ان کو کہہ دے کہ میرے پاس دو گواہیاں ہیں۔( ۱) ایک تو اللہ کی کہ اس کے تازہ تا زہ نشانات میری تائید میں ہیں اور (۲) دوسرے وہ لوگ جن کو کتاب اللہ کا علم دیا گیا ہے وہ بتا سکتے ہیں کہ میں سچا ہوں۔یا د رکھو! اللہ تعالیٰ کا نام غیب بھی ہے وہ نہاں درنہاں اور پوشیدہ سے پو شیدہ ہے کسی کا حق نہیں کہ کسی بات کو خدا کا الہام سمجھ لے جب تک کہ خد ا کا فعل اس پر شہادت نہ دے۔شہادت بغیر تو کوئی کام نہیں چلتا۔اگر شہادتوں یعنی خدا کے نشانوں سے یہ بات ثابت ہو جاوے کہ یہ الہام خدا کی طرف سے ہے تو سب سے پہلے ایمان لانے والے ہم ہیں۔اپنا قیل وقال تو قابل اعتبار نہیں ہوتا۔خدا کے فعل کی اس کے ساتھ شہادت ہونی چاہیے۔ہماری جماعت کے مولوی عبداللہ صاحب تیماپوری اپنے خطوط کے ذریعہ سے بہت کچھ الہامات اور کشوف لکھا کرتے تھے۔آخر نتیجہ یہ ہوا تھا کہ چند دنوں کے بعد ان کو جنون ہو گیا۔تھوڑے دن گذرے ہیں کہ قادیان میں آکر ایسے الہامات سے انہوں نے توبہ کی اور نیز میری بیعت کی۔میں مانتا ہوں کہ مکالماتِ الٰہیہ حق ہیں اور خدا کے اولیاء مخاطبات اللہ سے شرف پاتے ہیں۔لیکن یہ مقام بغیر تزکیہ نفس کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا اور بغیر تزکیہ نفس کے شیطان ان سے یاری کرتا ہے علاوہ اس کے سچے الہام کے لئے ہم پر تین گواہ ہوئے ہیں۔( ۱)اپنی پاک حالت (۲) خدا کے نشانوں کے ساتھ گواہی (۳) تیسرے الہام کی کلامِ الٰہی سے مطابقت۔یہاں پر پھر سائیں صاحب کہنے لگے کہ پھر میرے ایمان کا کیا حال ہے ؟ حضرت اقدس نے فرمایا۔میرا کام تو ایک حق بات کا پہنچا دینا ہے۔آگے فائدہ اور نقصان صرف تمہارے لئے ہوگا۔دوسرے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔تم توبہ اور استغفار بہت کرو اور رو رو کر خدا سے دعائیں مانگو۔سائیں صاحب بولے کہ پھر یہ جو مجھے سیر ہوتے ہیں اور عجیب عجیب مقامات دیکھنے میں آتے ہیں