ملفوظات (جلد 10) — Page 10
ہے اسی کی آواز سنتا ہے (۲) دوسرے حدیث النفس ہوتا ہے جس میں انسان کی اپنی تمنا ہوتی ہے اور انسان کے اپنے خیالات اور آرزوؤں کا اس میں بہت دخل ہوتا ہے اور جیسے مثل مشہور ہے بلّی کو چھیچھڑوں کی خوابیں، وہی باتیں دکھائی دیتی ہیں جن کا انسان اپنے دل میں پہلے ہی سے خیال رکھتا ہے اور جیسے بچے جو دن کو کتابیں پڑھتے تو رات کو بعض اوقات وہی کلمات ان کی زبان پر جاری ہو جاتے ہیں یہی حال حدیث النفس کا ہے۔( ۳) تیسرے شیطانی الہام ہوتے ہیں۔ان میں شیطان عجیب عجیب طرح کے دھوکے دیتا ہے کبھی سنہری تخت دکھاتا ہے اور کبھی عجیب وغریب نظارے دکھا کر طرح طرح کے خوش کن وعدے دیتا ہے۔ایک دفعہ سید عبدالقادر رحمۃ اللہ کو شیطان اپنے زرین تخت پر دکھائی دیا اور کہا کہ میں تیرا خدا ہوں۔میں نے تیری عبادت قبول کی۔اب تجھے عبادت کی ضرورت نہیں رہی۔جو چیزیں اب اوروں کے لئے حرام ہیں وہ سب تیرے لیے حلال کر دی گئی ہیں۔سید عبدالقادر رحمۃ اللہ نے جواب دیا کہ دُور ہو اے شیطان! جو چیزیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال نہ ہوئیں وہ مجھ پر حلال کیسے ہو گئیں ؟ پھر شیطان نے کہا کہ اے عبدالقادر! تو میرے ہاتھ سے علم کے زور سے بچ گیا ورنہ اس مقام پر کم لوگ بچتے ہیں۔یہ سن کر سائیں صاحب بول اُٹھے کہ میں کیا ہوں اور کس مرتبے پر ہوں اور میرا کیا حال ہے ؟ حضرت اقدس نے فرمایا۔مجھے کچھ علم نہیں کہ تم کس مرتبہ پر ہو۔توبہ و استغفار بہت کرو۔مُلہمین کے لئے نصیحت اور یہ باتیں میں صرف تمہارے لئے نہیں کہتا بلکہ ہر ایک کے لئے کہتا ہوں۔ہماری جماعت میں کوئی پچاس ساٹھ آدمیوں کے قریب ہوں گے جو اس قسم کے دعوے کرتے ہیں۔دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صاحبِ وحی ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو وہ بے نشان نہیں تھا۔کافروں نے جب ثبوت مانگا تھا کہ آپ کی وحی کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل کیا ہے؟ تو ان کو جواب دیا گیا تھا قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ١ۙ