ملفوظات (جلد 10) — Page 180
بعض مُردے زندہ کئے تھے بلکہ وہ حضرت عیسٰیؑ سے اس کام میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔اگر فرض محال کے طورپر ہم مان بھی لیں کہ بائبل میں حضرت عیسٰیؑ کا حقیقی مُردوں کے زندہ کرنے کا ذکر ہے توپھر ساتھ ہی ایلیا نبی کو بھی خداماننا پڑے گا۔اس میں حضرت عیسٰیؑ کی خدائی کی خصوصیت ہی کیا ہوئی؟ اورمابہ الامتیاز کیا ہوا؟ بلکہ یسعیاہ نبی کے متعلق تویہاں تک بھی لکھا ہے کہ مُردے ان کے جسم سے چُھوجانے پر ہی زندہ ہو جایا کرتے تھے۔ان باتوں سے جو کہ اس بائبل میںدرج ہیں صاف شہادت ملتی ہے کہ مُردوں کا زندہ کرنا حضرت مسیحؑ کی خدائی کے واسطے کوئی دلیل نہیں ہوسکتا اوراگر اس کو دلیل مانا جاوے تو کیوں ان دوسرے لوگوں کو بھی جنہوں نے حضرت مسیح سے بھی بڑھ کر یہ کام کیا خدانہ مانا جاوے اورخدائی کا خاصہ صرف حضرت مسیح کی ذات تک ہی محدود و مخصوص رکھا جاوے؟ بلکہ ہمارے خیال میں توحضرت موسٰی کا سوٹے کا سانپ بنانے کا معجزہ مُردے زندہ کرنے سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ مُردہ کو زندہ سے ایک تشبیہ اورلگائو بھی ہے کیونکہ وہی چیز ابھی زندہ تھی اور مُردے میں زندہ ہونے کی ایک استعدا د خیال کی جاسکتی ہے۔مگر سانپ کو سوٹے سے کوئی بھی نسبت اور تعلق نہیں ہے وہ ایک نبات کی قسم کی چیز اور وہ سانپ۔تو یہ سوٹے کا سانپ بن جانا تو مُردوں کے زندہ ہوجانے سے نہایت ہی عجیب بات ہے۔لہٰذا حضرت موسٰی کو بڑا خدا ماننا چاہیے۔مگر حقیقی اور اصلی بات یہ ہے کہ ہم حقیقی مُردوں کی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔سوال۔حضرت مسیحؑ ازلی ابدی ہیں اور و ہ اب بھی زندہ ہیں اوراس وقت خداکے داہنے ہاتھ بیٹھے ہیں۔ان کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس میں یہ خاصے پائے جاتے ہیں۔جواب۔ہم قطعی طورسے انکار کرتے ہیں کہ کوئی حقیقی مُردے بھی زندہ کرسکتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ۔الـخ(الزّمر :۴۳) باقی رہے آپ کے دعوے سوہم ان کو بغیر کسی دلیل کے قبول نہیں کرسکتے۔مُردوں کے زندہ کرنے کے ساتھ ان کا خود ازلی ابدی ہونا اور اب زندہ اورخداکے داہنے ہاتھ بیٹھے ہونا بھی آپ کے دعوے ہیں جن کی کوئی دلیل آپ نے پیش نہیںکی اوردلیل کی جگہ ایک اوردعویٰ پیش کردیا ہے۔