ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 181

حضرت عیسٰیؑ کو بھی ہم اورانبیاء کی طرح خدا کا ایک نبی یقین کرتے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ خدا کی راہ میں صدق اوراخلاص رکھنے والے لوگ خدا کے مقرب ہوتے ہیں۔جس طرح خدا نے اپنے اورمخلص بندوں کے حق میں بباعث ان کے کمال صدق اور محبت کے بیٹے کا لفظ بولا ہے۔اس طرح سے حضرت عیسٰی ؑ بھی انہی کی ذیل میں ہیں۔حضرت عیسٰیؑ میں کوئی ایسی بڑی طاقت نہ تھی جو اور نبیوں میں نہ پائی جاتی ہو اور نہ ہی ان میں کوئی ایسی نئی بات پائی جاتی ہے جس سے دوسرے محروم رہے ہوں۔اگر حضرت عیسٰیؑ میں مرد ے زندہ کرنے کی طاقت تھی تو اب بھی ان کا کوئی پیرو مُردے زندہ کرکے دکھائے۔مُردے زندہ کرنے تو درکنار بلکہ ہمارے مقابلہ میں کوئی نشان ہی دکھادیوے۔دیکھو! انسان اپنی انسانی حدود اور ہیئت کے اندر ترقی مدارج کرسکتا ہے نہ یہ کہ وہ خدابھی بن سکتا ہو جب انسان خدابن ہی نہیں سکتا تو پھر ایسے نمونے کی کیا ضرورت جس سے انسان فائدہ نہیں اٹھاسکتا؟ انسان کے واسطے ایک انسانی نمونے کی ضرورت ہے جو کہ رسولوں کے رنگ میں ہمیشہ خدا کی طرف سے دنیا میں آیا کرتے ہیںنہ کہ خدائی نمونہ کی جس کی پیروی انسانی مقدرت سے بھی باہر اور بالاتر ہے۔ہم حیران ہیں کہ کیا خدا کا منشا انسانوں کو خدابنانے کا تھا کہ ان کے واسطے خدائی کا نمونہ بھیجا تھا۔پھریہ اوربھی عجیب بات ہے کہ خداہوکر پھر یہود کے ہاتھ سے اتنی ذلّت اٹھائی اوررسوا ہوا اور ان پر غالب نہ آسکا بلکہ مغلوب ہوگیا۔سوال۔آپ نے جو دعویٰ کیا ہے اس کی سچائی کے دلائل کیا ہیں؟ جواب۔میں کوئی نیا نبی نہیں۔مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں۔توریت میں جن انبیاء کا ذکر ہے اورآپ ان کو سچامانتے ہیں۔جو دلائل ان کی صداقت کے اوران کو نبی اورخدا کا فرستادہ یقین کرنے کے ہیں وہ آپ پیش کریں انہی دلائل میں میری صداقت کا ثبوت مل جائے گا۔جن دلائل سے کوئی سچانبی مانا جاسکتا ہے وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔میں بھی منہاجِ نبوت پر آیا ہوں۔سوال۔نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ سے وہ دلائل سنیں جن سے آپ کو اپنے صدق کا یقین ہوا اورآپ کو