ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 178

۷؍اپریل ۱۹۰۸ء (ساڑھے دس بجے دن ) ایک امریکن میاں بیوی سے عیسائیت اوراپنی صداقت پر گفتگو ۷؍اپریل ۱۹۰۸ء کو ایک انگریز اور ایک لیڈی جنہوں نے اپنے آپ کو امریکہ (شکاگو)کے رہنے والے ظاہر کیا اور کہ وہ سیاحت کی غرض سے ملک بہ ملک پھر رہے ہیں اورہندوستان میں بھی یہاں کے پولیٹیکل اور ریلیجس حالات سے واقفیت حاصل کرنے کے واسطے آئے ہیں لاہور سے بہمراہی ایک سکاچ انگریز قادیان میں قریب دس بجے کے پہنچے۔مسجد مبارک کے نیچے کے دفتروں میں ان کو اچھی طرح سے بٹھایا گیا اور چونکہ انہوں نے حضرت اقدسؑ سے ملاقات کرنے کی درخواست کی اس لئے حضرت اقدس بھی وہیں تشریف لے آئے اورسلسلہ گفتگو مترجم (مترجم کا کام اوّل ڈپٹی علی احمد صاحب نے اورپھر جناب مفتی محمد صادق صاحب نے کیا )کے ذریعہ سے یوں شروع ہوا۔سوال۔ہم نے سنا ہے کہ آپ نے مسٹر ڈوئی کو کوئی چیلنج دیا تھاکیا یہ درست ہے ؟ جواب۔ہاں یہ درست ہے ہم نے ڈوئی کو چیلنج دیا تھا۔سوال۔کس بنا پر آپ نے اس کو چیلنج دیا تھا ؟ جواب۔ڈوئی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں خدا کا رسول ہوں اور کہ خدا نے مجھے بذریعہ الہام یہ بتایا ہے کہ مسیح خدا کا بیٹا اور خود خداتھا اور کہ خود مسیح نے مجھے بحیثیت خداہونے کے ایسا الہام کیا ہے اور کہ (نعوذ باللہ)اسلام تباہ ہوجاوے گا اور کہ (نعوذ باللہ )آنحضرتؐجھوٹے نبی تھے۔چونکہ ہمیں خدا نے بذریعہ اپنے الہام کے یہ بتایا ہے کہ مسیح نہ خدا، نہ خدا کا بیٹا بلکہ صرف ایک پاکباز انسان اور رسول تھا اور کہ ڈوئی اپنے اس دعویٰ رسالت میں کاذب ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک ہی وقت میں اسی ایک ہی خدا کی طرف سے ایک دوسرے کے بالکل متضاد اور مخالف راہوں پر چلنے والے دو رسول موجود ہوں۔پس چونکہ اس طرح سے دنیا میں فساد پیدا ہوتا اورحق وباطل میں امتیاز اٹھ جاتا