ملفوظات (جلد 10) — Page 176
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۶ جلد دہم جس وقت چاہے دکھا سکتا ہے۔ نشان دکھانا ہمارا کام نہیں ہے۔ خدا کے دکھائے ہوئے نشانات ہزاروں موجود ہیں ۔ ہاں البتہ ان میں یہ بات ضرور ہے کہ وہ کسی کے خاص کر کے مانگے ہوئے نہیں ہیں بلکہ وہ ہیں جو خدا نے خود اپنے ارادے اور خوشی سے دکھائے۔ میں تو ایسے شخص کے اسلام میں ہی شک کرتا ہوں جو مسلمان کہلا کر قرآن شریف اور سنت رسول سے باہر کوئی سوال کرتا ہے اگر سعادت و رشد کا انسان میں کچھ بھی حصہ ہو اور حق طلبی کی پیاس اور سچی تڑپ موجود ہو تو کیوں خدائی نشانات میں غور نہیں کی جاتی اور ان کو کیوں قبول نہیں کیا جاتا ؟ کیا وہ نشانات باسی ہو گئے ہیں کہ ان کی پروا نہیں کی جاتی اور کہا جاتا ہے کہ جو ہم مانگتے ہیں وہ ہمیں دیا جاوے۔ یاد رکھو! یہ بڑی بھاری جرات اور بے ادبی ہے۔ خدا بڑا بے نیاز ہے اسے کسی کی پروا ہی کیا ہے۔ اگر ساری دنیا بھی اس سے منہ پھیر لے تو اس کا کچھ بگڑتا نہیں۔ کسی کی خواہشات کا ماتحت ہو کر اور مجبور ہو کر وہ نہیں چلے گا۔ نماز ظہر تسلّی پانے کے لئے دُعا کی ضرورت ما از لر کےبعد پھر پر صاحب موصوف کو با کر یوں فرمایا کہ نہایت نرمی ، اخلاق اور محبت بھرے الفاظ سے اصل بات یہ ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب انسان کے دل کی حالت صاف ہوتی ہے اور اس میں خلوص اور حق کی تڑپ ہوتی ہے اور خدا کو جو دلوں کے حالات سے واقف ہے اس کے لئے کوئی امر ہدایت کا منظور ہوتا ہے تو خدا اپنے مامورین کے دل میں اس شخص کے لئے ایک خاص جوش اور توجہ پیدا کر دیتا ہے اور الہام خفی سے مامور کو اس کی طرف متوجہ کر دیتا ہے مگر یہ جب ہوتا ہے کہ خدا کو سائل کی حالت تقویٰ اور سچی تڑپ معلوم ہو جاوے۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ حضور الہی میں سائل کا سوال قابلِ قبول ہو گیا ہے۔ پس آپ اس امر کے لئے خدا کے حضور دعا کریں اور توبہ استغفار سے کام لیں۔ ممکن ہے کہ آپ کی دعا کی وجہ سے خدا کوئی ایسے سامان مہیا