ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 175

محروم ہی رہتے ہیں کیونکہ خدا نہ ان کی مرضی اورخواہشات کا تابع ہوتا ہے اور نہ و ہ ہدایت پاتے ہیں۔دیکھ لو! جب نشانات اور معجزات اقتراحی رنگ میں طلب کئے گئے جب ہی یہی جواب ملا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا(بنی اسـرآءیل :۹۴) خدا تعالیٰ کے اب بھی ہزاروں نشانات ہیں جو گننے سے گنے نہیں جاسکتے اورہماری کتابوں میں تفصیل سے درج ہیں۔ان کو دیکھا جاوے کیا وہ قابلِ قبول اورخدائی شان وشوکت کا رعب اپنے اندر رکھتے ہیں یا کہ کسی انسان کی طاقت میں ان کا امکان ممکن ہے؟ پھر جو نشانات خدا تعالیٰ نے خود اپنی مرضی اورخوشی سے دئیے ہیں ان سے تسلّی تشفّی نہ پاکر اپنی تسلّی تشفّی کے واسطے خاص نشانات طلب کرنا تو نہ قرآن میں ثابت ہے اورنہ کسی پہلے نبی کی زندگی میں ملتا ہے پس ہم سے کیوں منہاجِ نبوت سے باہر سوال کیا جاتا ہے ایسا ہرگز جائز نہیں۔پہلے سوال کرنے والوں اورمعجزات مانگنے والوں کو دیکھ لو ان سے کیا معاملہ ہوا؟ وہی اب موجود ہے۔ہم نے خدائی کا دعویٰ تونہیں کیا۔نشان خدا کے ہاتھ میںہیں۔جب اورجس قسم کے وہ چاہے اپنی مرضی سے ظاہر کرے۔وہ کسی زید و بکر کی خواہشات کا پابند اور ماتحت نہیں ہے اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسا انسان کبھی کامیاب بھی ہوا ہو۔وہی قرآن شریف موجود ہے اس میں دیکھ لیا جاوے۔خدا کبھی مجبور نہیں ہوا۔اورنہ وہ مجبور ہوکر ایسا کیا کرتا ہے بلکہ جب وہ چاہتا ہے اپنی مرضی سے مانگنے والوں کی خواہشات سے ہزار درجہ بڑھ چڑھ کر بھی نشان دکھا سکتا ہے اوردکھاتا ہے۔اس کو کسی خاص انسان کی پروا نہیں ہواکرتی کہ یہی شخص ہدایت پاوے گا تویہ کارخانہ چلے گا۔آپ بھی مسلمان ہیں بھلا آپ نے بھی کہیں قرآن شریف میں اس قسم کا مضمون پایا ہے کہ کبھی کسی نے اقتراحی رنگ میں معجزہ مانگا ہو اور پھر اس نے پا بھی لیاہو۔ہرگز ایسا ثابت نہ ہوگا کہ کسی نے اس طرح سے مانگا اورپھر پالیا ہو۔پس اگر ایسا ثابت نہیں ہوتا تویہ ایک قسم کی جرأت اوربے ادبی ہے اس سے مسلمان کو بچنا چاہیے۔پس جس طرح سے آنحضرتؐنے نشان مانگنے والوں کو کہا اورجواب دیا تھا ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں کہ نشان خداکے پاس ہیں وہ جس طرح کے چاہے اور