ملفوظات (جلد 10) — Page 162
قدرت کا ملہ اورقادر مطلق ہونے اورسننے اورقبول کرنے والا ہونے پر یقین کامل اور پوراوثوق نہ رکھتا ہو جب تک دعا بھی ایک بے حقیقت چیز ہے۔فلسفیوں کو کیوں قبولیت دعاپر ایمان نہیں ہوتا؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ ان کو خدا کی وسیع قدرت اورباریک درباریک سامانوں کے پیدا کردینے والا ہونے پر ایمان نہیں ہوتا اور وہ خدا کی قدرت کو محدود جانتے ہیں اوراپنے تجارب اورعلوم پر ہی بھروسہ کربیٹھتے ہیں۔ان کو اپنے تجارب کے مقابلہ میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ خدابھی ہے اوروہ بھی کچھ کرسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بعض سخت سخت مہلک امراض میں وہ لوگ یقینی اورقطعی حکم لگادیتے ہیں کہ یہ شخص بچ نہیں سکتا یا اتنے عرصے میں مَر جاوے گا۔یااس طرزسے مَرے گا۔مگر بیسیوں مثالیں ایسی خود ہماری چشم دید ہیں اور بعض کو ہم جانتے ہیں جن میں باوجود ان کے یقینی اور قطعی حکم لگادینے کے خدا تعالیٰ نے ان بیماروں کے واسطے ایسے اسباب پیدا کردیئے کہ وہ آخر کار بچ گئے اوربعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض وہ بیمار جن کے حق میں یہ لوگ موت کا قطعی اور اٹل فتویٰ دے چکے تھے زندہ سلامت ہوگئے اور کسی دوسرے موقع پر ان کو مل کر شرمندہ کیا اوران کے علم ودعویٰ کو بھی شرمندہ کیا ہے۔حدیث میں آیا ہے مَا مِنْ دَآءٍ اِلَّا وَلَہٗ دَوَآءٌ ایک مشہور ڈاکٹر کا ہمیں قول یاد ہے وہ کہتا ہے کہ کوئی مرض بھی ناقابل علاج نہیں ہے بلکہ یہ ہماری سمجھ اورعقل وعلم کا نقص ہے کہ ہمارے علم کی رسائی وہاں تک نہیں ہوتی۔ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرض کے واسطے بعض ایسے ایسے اسباب پیدا کئے ہوں جن سے وہ شخص جس کو ہم ناقابل علاج یقین خیال کرتے ہیں قابل علاج اور صحت یاب ہو کر تندرست ہوجاوے پس قطعی حکم ہرگز نہ لگانا چاہیے بلکہ اگر رائے ظاہر بھی کرنی ہوتویوں کہہ دوکہ ہمیں ایسا شک پڑتا ہے مگر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسے سامان پیدا کردے کہ جن سے یہ روک اٹھ جاوے اوربیمار اچھا ہوجاوے۔دعاایک ایسا ہتھیار خدا نے بنایا ہے کہ اَنہونے کام بھی جن کو انسان ناممکن خیال کرتا ہے ہوجاتے ہیں کیونکہ خداکے لئے کوئی بات بھی انہونی نہیں۔۱ ۱ الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۲مورخہ ۲۶؍مارچ۱۹۰۸ء صفحہ ۳،۴