ملفوظات (جلد 10) — Page 161
بات کو مان لے۔اصل میں بات یہ تھی کہ خدا کا منشا قدرت نمائی کا تھا۔توریت میں یہ قصہ مفصل لکھا ہے۔بچہ جب بوجہ شدت پیاس رونے لگا توبی بی ہاجرہؓ پہاڑ کی طرف پانی کی تلاش میںاِدھر اُدھر گھبراہٹ سے دوڑتی بھاگتی پھرتی رہی مگر جب دیکھا کہ اب یہ مَرتا ہے توبچے کو ایک جگہ ڈال کر پہاڑ کی چوٹی پر دعاکرنے لگ گئی کیونکہ اس کی موت کو دیکھ نہ سکتی تھی۔اسی اثناء میں غیب سے آواز آئی کہ ہاجرہ! ہاجرہ! لڑکے کی خبر لے وہ جیتا ہے۔آکر دیکھا تولڑکا جیتا تھا اورپانی کا چشمہ جاری تھا۔اب وہی کنواں ہے جس کا پانی ساری دنیا میں پہنچتا ہے اوربڑی حفاظت اور تعظیم اور شوق سے پیا جاتا ہے۔غرض یہ سارا معاملہ بھی سوکنوں کے باہمی حسدوضد کی وجہ سے تھا۔انبیاء کا وجود خدا تعالیٰ کے ظہور کا باعث ہوتا ہے فرمایا۔خدا کا نام ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔وہی ظاہر ہے اَور کوئی ظاہر نہیں۔خدا کا ظہور دنیا میں انبیاء کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔انبیاء کا وجود خدا کے ظہور کا باعث ہوتا ہے۔انبیاء کے آنے سے پہلے خدامخفی ہوتا ہے۔لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں اور زبانِ حال سے دنیا بول اٹھتی ہے کہ گویا خدا ہے ہی نہیں۔انبیاء آکر دنیا کو خوابِ غفلت سے جگاتے ہیں اورا ن کے ذریعہ سے خدااپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے اسی واسطے انبیا ء خدانما کہلاتے ہیں۔وہ خود فنا ہوجاتے ہیں جب خدا کا ظہو ر ہوتا ہے۔دیکھو! جب تک انسان اپنے نفسانی جذبات اورخودی سے فنا نہ ہوجاوے جب تک خواہ الہام بھی ہوں اورکشوف بھی دکھائے جاویں مگر کسی کام کے نہیں ہیں کیونکہ بجز اس کے کہ خدامیں اپنے آپ کو فنا کردیا جاوے یہ امور عارضی ہوتے ہیں اور دیر پا نہیں ہوتے اور ان کی کچھ بھی قدروقیمت نہیں ہوتی۔قبولیتِ دعا کا راز دعاکی قبولیت کا بھی یہی راز ہے۔انسان جب تک اپنی خواہشات، ارادوں اور علموں کوترک کرکے خدا میں فنا نہ ہوجاوے اورخدا کی