ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 9

اور اسی کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اور پھر یہ بھی یاد رکھو کہ اگر کوئی الہام قرآن مجید کے مطابق بھی ہو لیکن کوئی نشان ساتھ نہ ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔قابل قبول الہام وہی ہوتا ہے جو قرآن مجید کے مطابق بھی ہو او ر ساتھ ہی اس کی تا ئید میں نشان بھی ہوں۔اگر ایک شخص کہے کہ میں بادشاہ کے در بار سے فلاں عہدہ حاصل کرکے آیا ہوں لیکن اس کے ساتھ کوئی نشان نہ ہو اور بادشاہی سامان اور فوج سپاہ سے بالکل خالی ہو تو صرف یہ کہنے سے کہ مجھے فلاں عہد ہ مل گیا ہے اس کی کچھ عزت نہیں ہوگی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معصوم اور خاتم الانبیاء تھے ہمارا تو یہی ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ معصوم نبی ہے کہ جس پر تمام کمالات نبوت کے ختم ہوگئے ہیں اور ہر ایک طرح کا کمال اور درجہ انہیں پر ختم ہو گیا ہے اور ان پر وہ کامل اور جامع کتاب نازل کی گئی جس کے بعد قیامت تک کوئی اور شریعت نہیں آئے گی۔وہ ایسی کلام ہے جس پر خدا کی مہر ہے اور جو ہزاروں فرشتوں کے ساتھ اور ان کی حفاظت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔اگر کوئی الہام ہو یا کشف ہو یا وحی ہوجب تک وہ اس کے ساتھ مطابقت نہ رکھے گی منجانب اللہ نہیں ٹھہر سکتی۔ہاں اگر کوئی الہام یا وحی اس کے مطابق ہو اور ساتھ ہی اپنی تائید میں نشانات بھی رکھتی ہو تو سب سے پہلے ہم اس کو قبول کریں گے۔ہمارا مقدور نہیں کہ ایک ذرّہ بھر بھی چون وچرا کریں۔کشوف والہامات کی تین اقسا م الہام، کشف یا رؤیا تین قسم کے ہوتے ہیں۔( ۱) اوّل وہ جو خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہ ایسے شخصو ں پر نازل ہوتے ہیںجن کا تزکیہ نفس کامل طور پر ہو چکا ہوتا ہے اور وہ بہت سی موتوں اور محویت نفس کے بعد حاصل ہوا کرتا ہے اور ایسا شخص جذبات نفسانیہ سے بکلی الگ ہوتا ہے اور اس پر ایک ایسی موت وارد ہو جاتی ہے جو اس کی تمام اندرونی آلائشوں کو جلا دیتی ہے جس کے ذریعہ سے وہ خدا سے قریب اور شیطان سے دُور ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو شخص جس کے نزدیک ہوتا