ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 8

آپ کو مسیح اور مہدی سمجھتا ہوں اور ایسا اُولوالعزم امام مانتا ہوں کہ جیسا نہ آگے کبھی ہوا اور نہ ہوگا اور ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا بھی دم بھرتے تھے۔غرض ایک فقرہ تو ایسا بولتے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ سائیں صاحب اپنے آپ کو تمام دنیا سے اعلیٰ اور زکی النفس خیال کرتے ہیں اور ساتھ ہی کل ذات اور کل فعل والے سبقوں کی عجیب عجیب تجلیات سناتے تھے لیکن پھر باتوں ہی باتوں میں اپنے آپ کو حقیر ذلیل اور کچھ کا کچھ سمجھنے لگ جاتے تھے۔غرض بیچارے (خدا اپنے فضل وکرم سے ان پر رحم کرے ) پیچ در پیچ مشکلات میں پھنسے ہوئے تھے اور فیج اعوج کی مقر ر کردہ منزلوں کو طے کرتے کرتے عجیب وغریب اُتار چڑھاؤ میں مشغول تھے اور مصیبت پر مصیبت یہ تھی کہ اس قسم کے معاملات سے اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ گئے تھے اور خودستائی اور کبریائی کی منازل میں بھی کافی گذر کر چکے تھے۔اسی لئے وہاں کے احمدی احباب نے سائیں صاحب کو مخبوط الحواس اور پاگل خیال کرکے نماز کےلئے امام بنانا چھوڑ دیا اور اُن کے پیچھے نماز کا ادا کرنا ناجائز جانا۔سائیں صاحب موصوف کی اس قسم کی سرگذشت سن کر حضرت اقدس ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔سچے الہام کی شناخت اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں مختلف طبقات کے انسان پائے جاتے ہیں مگر مسلمان تو انسان اسی صورت میں رہ سکتا ہے جب سچے دل سے کلمہ طیبہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ پر ایمان لاوے اور پورے طور سے اس پر کار بند ہو جاوے۔اور اس کے بعد قرآن شریف پر ایمان رکھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی سچی اور کامل کتاب ہے اور وہی ایک کلام ہے جس پر خدا کی مہرہے۔انسان کو اسی کے مطابق عمل درآمد کرنا چاہیے اور اسی کے بتائے ہوئے احکام پر چلنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دکھائے ہوئے نمونہ پر کاربند ہونا یہی صراط مستقیم ہے اس کے سوائے کوئی تحریر، کشف رؤیا یا الہام بغیر مہر کے جائز نہیں۔جب تک کسی الہام پر خدا کی مہر نہ ہو وہ ماننے کے لائق نہیں ہوتا۔دیکھو! قرآن شریف کو عربوں جیسے اَشدّ کافر کب مان سکتے تھے اگر خدا کی مہر اس پر نہ ہوتی ہمیں بھی اگر کوئی کشف رؤیا یا الہام ہوتا ہے تو ہمارا دستور ہے کہ اُسے قرآن مجید پر عرض کرتے ہیں