ملفوظات (جلد 10) — Page 148
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۸ جلد دہم جاتا ہے کہ کفارہ نے دنیا میں گناہ پھیلایا ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ کفارہ صرف نجات کے لئے ہے۔ ورنہ جب تک انسان پاک نہ ہو اور گناہوں سے پرہیز نہ کرتا ہو کفارہ کچھ نہیں مگر جب انہی لوگوں کی طرف دیکھا جاتا ہے جو اس قول کے کہنے والے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ہیں۔ ایک دفعہ ایک پادری کسی گنہ کی وجہ سے پکڑا گیا ہے تو اس نے جواب دیا کہ کفارہ ہو چکا ہے اب کوئی گناہ نہیں۔ اگر کفارہ گناہ کرنے سے نہیں بچاتا تو اس کا کیا فائدہ؟ چنانچہ اس کا جواب عیسائی کچھ نہیں دے سکتا ۔ او ۱۷ مارچ ۱۹۰۸ ء کو ایک صاحب علاقہ بلوچستان نے حضرت اقدس کی غیروں روں کے پیچھے نماز خدمت میں خط لکھا کہ آپ کا ایک مرید نور محمد نام میرا دلی دوست ہے۔ وہ بڑا نمازی ہے۔ نیکو کار ہے سب اس کی عزت کرتے ہیں۔ ہمہ صفت موصوف خلیق شخص ہے۔ دیندار ہے۔ اس سے ہم کو آپ کے حالات معلوم ہوئے تو ہمارا عقیدہ یہ ہو گیا ہے کہ حضور بڑے ، رے ہی خیر خواہ اُمت محمدیہ و مداح جناب رسول مقبول و اصحاب کبار ہیں۔ آپ کو جو بڑے نام سے یاد کرے وہ خود بُرا ہے مگر باوجود ہمارے اس عقیدہ و خیال کے نور محمد مذکور ہمارے ساتھ باجماعت نماز نہیں پڑھتا اور نہ جمعہ پڑھتا ہے اور وجہ یہ بتلاتا ہے کہ غیر احمدی کے ؟ پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی ۔ آپ اس کو تاکید فرماویں کہ وہ ہمارے پیچھے نماز پڑھ لیا کرے تا کہ تفرقہ نہ پڑے کیونکہ ہم آپ کے حق میں برا نہیں کہتے ۔“ دو 66 یہ اس خط کا اقتباس اور خلاصہ ہے اس کے جواب میں اسی خط پر حضرت نے عاجز کے نام تحریر فرمایا۔ جواب میں لکھ دیں کہ چونکہ عام طور پر اس ملک کے ملاں لوگوں نے اپنے تعصب کی وجہ سے ہمیں کافر ٹھہرایا ہے اور فتوے لکھے ہیں اور باقی لوگ ان کے پیرو ہیں ۔ پس اگر ایسے لوگ ہوں کہ وہ صفائی ثابت کرنے کے لئے اشتہار دے دیں کہ ہم ان مکفر مولویوں کے پیرو نہیں ہیں تو پھر ان کے ساتھ نماز پڑھنا روا ہے ورنہ جو شخص مسلمانوں کو کافر کہے وہ آپ کا فر ہو جاتا ہے پھر اس کے پیچھے نماز الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۰ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۸ ء صفحہ ۸،۷ ہے یعنی حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ ایڈیٹر ” بدر (مرتب)