ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 143

کا پرانا مسلّمہ مسئلہ ان کتب میں اصل الاصول ہے جس کا ثبوت مدت ہائے دراز سے اہل ہنود کے کروڑوں رشی اور پنڈت بزرگ اپنے عملی نمونے سے دنیا میں قائم کر گئے ہیں اور یا اگر پنڈت دیانند کو اپنے دعوے میں سچا مان لیں اور ان متقدمین کو جو ان کتابوں کے اصل وارث اور اہل تھے غلطی پر خیال کر لیں تو یوں ماننا پڑے گا کہ وید گونگے ہیں اور وہ اپنے اظہارِ مطلب سے بالکل عاری ہیں۔توحید اور بت پرستی میں زمین آسمان کا فرق ہے مگر ان دونوں کا سرچشمہ وہی کتب مقدسہ یعنی وید ہی بتایا جاتا ہے۔ایک طرف متقدمین اہلِ ہنود انہی ویدوں کو ہاتھ میں لے کر بت پرستی ثابت کرتے ہیں اور موحدوں سے مباحثہ کرتے ہیں۔دوسری طرف انہی پاک کتب سے آج کل موجودہ نسل کے دیانندی خیال کے لوگ جو بلحاظ زمانہ اور زبان کے بہت پیچھے کی نسلیں ہیں وہ انہی کتب سے توحید نکالتے ہیں اور بُت پرستی کے دشمن ہیں۔بہرحال ایک بات سے انکار نہیں یا تو پہلے بزرگ راستی پر ہیں اور یا وید گونگے ہیں کہ اپنے اظہارِ مطلب سے عا جزاور عاری ہیں۔بھلا کبھی کسی نے کسی مسلمان کو بھی بت پرستی اور مورتی پوجا کا حامی دیکھا یا سنا ہے۔قرآن شریف نے توحید کے مسئلہ کو ایسا صاف اور بیّن دلائل سے کھلے کھلے طور سے بیان کیا ہے کہ بت پرستی کا کبھی کسی مسلمان کے دل میں وہم وگمان تک بھی نہیں پیدا ہوا۔فرمایا کہ چشمہ معرفت میں ہم نے ان لوگوں کے کل اعتراضات کا پورے طور سے ہمیشہ کے واسطے فیصلہ ہی کر دیا ہے۔ہم یقین کرتے ہیں کہ اگر کوئی حق جُو انسان تعصب اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر حق کی تلاش کے واسطے ہماری اس کتاب کو اوّل سے آخر تک پڑھ لے گا تو وہ کم ازکم کبھی بھی اسلام کے برخلاف زبان یا قلم نہیں اُٹھا سکتا۔پوری توجہ سے ایک سرے سے دوسرے سرے تک نظر انصاف سے پڑھنا شرط ہے۔۱ ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۹ مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۳،۴