ملفوظات (جلد 10) — Page 142
سارے ساتھی گنوں کی دعوت قبول کریں۔یہ کہہ کر لپٹ گیا اور حضور کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کھیت میں لے گیا حضرت اقدسؑ مسکرائے اور اس کے کھیت میں چند منٹ تک ٹہلتے رہے۔اتنے میں اس نے گنے لا ڈھیر کئے۔چنانچہ حضرتؑکے تمام ساتھیوں نے لے لیے۔چلنے سے پہلے حضرت اقدسؑ نے نہایت لطف اور مہربانی سے اس شخص کو بلا کر اس کا نام وغیرہ دریافت کیا اور اس کے صدق اور خلوص محبت سے مسکرا کر رخصت ہوئے۔اس واقعہ سے حضرت کے ہمراہیوں پر خا ص اثر ہوا کہ کس لطف اور شفقت سے اور فراخدلی سے حضرت اقدسؑ اس سے پیش آئے اور یہ آپ کے اخلاق حمیدہ کا ایک نمونہ تھا۔ویدوں میں مورتی پوجا اور توحید فرمایا۔ہر قوم کی اصلی تعلیم کا خواہ اس پر ہزاروں ہی برس کیوں نہ گذر جائیں کچھ نہ کچھ اثر یا نمونہ بطور بیج کے رہ ہی جاتا ہے۔ویدوں میں اگر توحید کی تعلیم کا کوئی بھی شعبہ موجو د ہوتا تو اس تعلیم کا اثر اس کے ماننے والوں میں ضرور کچھ نہ کچھ تو پایا جاتا۔کروڑوں نمونے بت پرستی کے موجو د ہیں۔لاکھوں مندروں میں طرح طرح کے بت رکھے ہیں بلکہ اکثروں میں تو فحش اور ننگی مورتیاں ان کے تمدن اور ویدوں کی تعلیم کی اصلیت کا راز عملی طور سے دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں۔علمی رنگ میں ان کی کتب جو دیانند سے پہلے اسلام کے مقابل میں علم مناظرہ میں لکھی گئی ہیں وہ ان کی تعلیم کی اصلیت ظاہر کرتی ہیں۔چنانچہ وہ لوگ ہمیشہ مسلمان موحدوں کے مقابلہ میں بت پرستی کے اثبات کے دلائل اپنی انہی کتب متبرکہ یعنی ویدوں سے پیش کیا کرتے تھے اور ان کی ساری جدوجہد مورتی پوجا کے اثبات کے لیے ہوا کرتی تھی سوا چند ان آدمیوں کے جن کو دیانند نے پیدا کیا ہے کُل بڑے بڑے علماء اور فضلاء مورتی پوجا ہی کے معتقد تھے۔اب ہم ان لاکھ در لاکھ پنڈتوں اور متقدمین بزرگان اہلِ ہنود کو ان معدودے چند دیانندی خیال کے مقلدوں کے مقابلہ میں کس طرح جھوٹا جان سکتے ہیں۔وَالْفَضْلُ لِلْمُتَقَدِّ۔مِ۔یہ بات دو حال سے خالی نہیں۔یا تو یہ دعویٰ توحید پنڈت دیانند کا زمانہ حال کی موجودہ روش اور ترقی کو دیکھ کر خود ساختہ مسئلہ ہے اور دراصل ویدوں میں اس کا نام ونشان نہیں بلکہ وہی مورتی پوجا