ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 141

کیسا نوازا۔کیسی عظمت اور جبروت عطا کیا۔بھلا جو کچھ خدا نے ان کو دیا اس کا وہم بھی کبھی کسی عرب کے دل میں اس وقت آسکتا تھا؟ ہر گز نہیں۔پس سچی عظمت اور سچارعب یہی تھا نہ کہ ابو جہل وغیرہ کا۔اور یہ باتیں انہی کو دی جاتی ہیں جو پہلے اپنے اُوپر خدا کے لیے ایک موت وارد کر لیتے ہیں۔استقامت اور دعا سے کام لیں فرمایاکہ بات دراصل یہ ہے کہ صبر سے کام لینا چاہیے۔ترقی ہو رہی ہے۔قبولیت دلوں میں پیدا ہوتی جاتی ہے اور دنیا کے کناروں تک اب یہ سلسلہ پہنچ چلا ہے۔ہمارے پاس بعض ایسے لوگوں کے بھی خط آتے ہیں جن میں سے بعض رؤسائے ریاست بھی ہوتے ہیں اور انہوں نے بیعت بھی نہیں کی ہوتی وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے لیے فلاں اَمر میں دعا کی جاوے۔اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے دل مان گئے ہیں اور اب دیکھو متواتر چھبیس یا ستائیس برس سے ہمارا دعویٰ چلا آرہا ہے اور خدا اس میں روز ترقی دے رہا ہے۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس بات کی نظیر نہیں ملتی کہ کسی مفتری علَی اللہ کو اس قدر مہلت دی گئی ہو اور ایسی قبولیت اور ترقی عطا کی گئی ہو۔آسمانی اور زمینی نشان اس کے واسطے بطور شاہد پیدا کئے گئے ہوں۔آخر ان باتوں کا بھی تو دلوں پر اثر ہوتا ہے۔گھبرانا نہیں چاہیے۔صبر، استقامت اور دعا سے کام لینا چاہیے۔حضور کی ذرہ نوازی سیر سے واپسی پر ایک کسان منگو نام سکنہ بھینی نے سامنے سے آکر سلامِ مسنون اور مصافحہ کرنے کے بعد عرض کی کہ حضور تھوڑی دیر ٹھہر جاویں میں کچھ گنے نذر کرنا چاہتا ہوں۔حضور نے فرمایا۔کچھ ضرورت نہیں تمہیں ثواب ہو گیا۔اب تکلیف مت کرو مگر اس نے نہ مانا اور اصرار کیا۔حضرت اقدس ؑنے فرمایا کہ اچھا میاں شادی خاں کو دے د و۔وہ ہمارے واسطے لے آوے گا۔مگر اس شخص نے نہایت ہی الحا ح سے عرض کی، نہیں حضور !یہاں ٹھہر ہی جاویں اور حضور کے