ملفوظات (جلد 10) — Page 140
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۰ جلد دہم لوگ بذریعہ خطوط بیعت کرتے ہیں یا اس جگہ آکر بیعت کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں مگر ان کو ضروریات سلسلہ سے مطلع کرنے کا کوئی کافی ذریعہ نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں مولوی فتح دین صاحب بھی اس کام کے واسطے موزوں ہیں ۔ آدمی مخلص دیانتدار ہیں اور یوں ان کی کلام بھی مؤثر ہے۔ ان کی پنجابی نظم جو اس ملک کی مادری زبان ہے اور جسے لوگ خوب سمجھتے ہیں وہ بھی اچھی مؤثر ہے ہمارے خیال میں ان کے ذریعہ سے تبلیغ و اشاعت کا کام بھی ہوتا رہے گا۔ اور چندہ کی وصولی کا بھی با قاعدہ انتظام ہو جاوے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عظمت اور رعب عطا کرتا ہے مولوی فتح دین صاحب کی کسی عرض پر فرمایا۔ خدا جب بندے سے خوش ہو جاتا ہے تو وہ اپنے بندے کو خود عظمت اور رعب عطا کر دیتا ہے کیونکہ حق کے ساتھ ایک عظمت اور رعب ہوتا ہے۔ دیکھو ابوجہل وغیرہ جو اس وقت مکہ میں بڑے آدمی بنے ہوئے تھے اصل میں ان کا سارا تکبر اور دبدبہ جھوٹا تھا۔ ان کی عظمت فانی تھی۔ چنانچہ نتیجہ میں دیکھ لو کہ ان کی عظمت و شوکت کہاں گئی ۔ اصل بات یہ ہے کہ سچا رعب اور حقیقی عظمت ان لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو اول خدا کے واسطے اپنے اوپر ایک موت وارد کر لیتے ہیں اور اپنی عظمت اور جلال کو خاکساری سے، انکساری سے ، تواضع سے تبدیل کر دیتے ہیں ۔ تب چونکہ انہوں نے خدا کے لئے اپنا سب کچھ خرچ کیا ہوتا ہے خدا خود اُن کو اُٹھاتا ہے اور قدرت نمائی سے ان کو نوازتا ہے۔ دیکھو! تو بھلا اگر حضرت ابوبکر اور عمر بھی اپنی پہلی خاندانی بزرگی اور عظمت ہی کو دل میں جگہ دیئے رہتے اور خدا کے لیے وہ اپنا سب کچھ نہ کھو بیٹھتے تو کیا تھے؟ زیادہ سے زیادہ مکہ کے کھڑ پینچ بن جاتے مگر نہیں خدا نے ان کے دلوں کے اندرونہ حالات کو خلوص سے بھرا پایا اور انہوں نے خدا کی راہ میں اپنی کسی بزرگی اور عظمت وسطوت کی پروانہ کی بلکہ سب کچھ نثار کر دیا اور خدا کے لئے فروتن ، متواضع اور خاکسار ہو گئے تو اللہ نے ان کو