ملفوظات (جلد 10) — Page 134
خوابیں آئیں اور وہ دونوں سچی بھی تھیں۔فرعون کو بھی جو اس وقت کا بادشاہ تھا خواب آئی اور سچی نکلی تو کیا حضرت یوسف ؑ نے ان کی کوئی تعظیم کی یا ان کو نبی مان لیا؟ یا بتاؤ تو بھلا تم نے بھی ان کو کوئی مرتبہ دیا ہے؟ بھلا ایک نے تو اپنے خواب کو قتل ہو کر سچا کر دیا مگر دوسرا تو با دشاہ کا مقرب بن گیا تھا اسی کی عزت کی ہوتی؟ اگر اسی طرح ایک دو خوابیں سچی ہو جانے سے کوئی نبی بن جاتا ہے اور اس میں نبوت کی شان آجاتی ہے تو بتاؤ کس کس کو امام مانو گے؟ نعوذ باللہ اس طرح تو نشانِ نبوت کی ہتک اور انبیاء کا تمسخر کرتے ہو۔یاد رکھو کہ ایک دو پیسے پاس ہونے سے یا دو چار آنے کا مالک بننے سے یا چند پونڈوں کے پاس ہونے سے کوئی بادشاہ نہیں بن جاتا بلکہ پیسے روپے اور پونڈ تو کثرت مال وزر کی ایک شہادت ہیں کہ تا ان سے قیاس کر لیا جاوے کہ کروڑ در کروڑ پونڈ اور لا تعداد خزانے بھی ضرور اور یقیناً ہیں۔پس ان لوگوں کی خوابوں اور انبیاء کے الہامات مکالمات اور مخاطبات میں ایک مابہ الامتیاز ہوتا ہے۔انبیاء کی وحی اپنے تمام لوازمات کے ساتھ ہوتی ہے اس میں ایک شوکت اور جلال ورعب ہوتا ہے۔انبیاء کی وحی کیا بلحاظ کیفیت اور کیا بلحاظ کمیت عام لوگوں سے بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔اور وہ ان کی کامیابی اور ان کے دشمنوں کی نامرادی پر مبنی ہوتی ہے۔انبیاء کی وحی غیب پر مشتمل ہوتی ہے۔لَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ(الـجنّ: ۲۷،۲۸) غرض انبیاء کی وحی میں کسی انسان کو کسی طرح کا اشتراک نہیں ہوتا۔جنسیت کے لحاظ سے جو اشتراک رکھا گیا ہے وہ بھی صرف اس واسطے کہ تا انسان کو انبیاء کی پاک وحی پر ایمان لانے میں مدد دے ورنہ اس کی کوئی حقیقت نہیں اور وہ تو انبیاء کی وحی کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔پس مولوی محمد حسین صاحب کو آپ کہہ دیں ( جو صاحب زبانی پیغام لائے تھے ) کہ مولوی ہوکر آپ کے منہ سے کس طرح ایسی باتیں نکلتی ہیں جن سے نعوذ باللہ شانِ نبوت کا تمسخر اور استخفاف ہوتا ہے۔اوّل تو آپ کا یہ خواب یا الہام جو کچھ بھی ہے تفسیر طلب ہے۔دوسرے اگر یہ سچا بھی ہوتو نہ یہ شانِ نبوت کے لیے اعتراض ہو سکتا اور نہ ہی آپ اس سے نبی بن سکتے ہیں۔آپ سے پہلے بھی