ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 133

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۳ جلد دہم پھر اپنے خط میں لکھا ہے کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوگا۔ یہ فقرہ لکھنے سے اس کی مراد نکتہ چینی ہے اور پیشگوئیوں اور امور نبوت کا نعوذ باللہ استخفاف کرنا مد نظر ہے۔ سو اس کے جواب میں اس سے کہہ دیا جاوے کہ ہماری کتاب حقیقۃ الوحی کا مطالعہ کرے۔ ہم نے ان امور کو اس میں با تفصیل لکھ دیا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ خواب تو اکثر چوہڑے چماروں اور مردار خوروں کو بھی ہو جاتا ہے اور اکثر سچا بھی ہوتا ہے تو پھر اس میں کیا شیخی ہے کہ میرے گھر لڑکا ہوگا ؟ عام لوگوں کے سچے خوابوں اور مامورین کے الہامات میں مابہ الامتیاز ہمارے پاس بعض ہندو آتے ہیں اور خواب سناتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ خواب سچا بھی نکلا۔ اس سے مطلب ان کا صرف یہ ہوتا ہے کہ اعتراض کریں کہ اسلام کی اس میں خصوصیت ہی کیا ہے؟ ہم ایسی نظیریں بتا سکتے ہیں کہ بعض فاسق ، فاجر ، بدمعاش ، مشرک، چور، زانی ، ڈاکوؤں کو بھی خواب آجاتے ہیں اور ان میں سچے بھی ہوتے ہیں تو پھر اس میں مولوی محمد حسین کی کیا خصوصیت ہوئی ؟ شرمیت یہاں کا ایک آریہ ہے اس نے ایک خواب میں اپنے ہاں لڑکا پیدا ہونا بتایا تھا۔ چنانچہ لڑکا پیدا ہوا اور پھر ایک بار بیان کیا کہ بابو اللہ دتہ تبدیل ہو جاوے گا۔ چنانچہ یہ خواب بھی اس کا پورا ہو گیا اور با بو اللہ دتہ کو وہ اس معاملہ کا گواہ بھی کرتا ہے تو پھر کیا ان باتوں سے یہ نتیجہ نکالنا چاہیے کہ شرمیت کو یا اور ایسے لوگوں کو نعوذ باللہ ہم نبی مان لیں؟ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ امور بطور شہادت اللہ تعالیٰ نے ہر طبقہ کے لوگوں میں اس لیے ودیعت کر دیئے ہیں کہ تا انسان ملزم ہو جاوے اور قبول نبوت کے واسطے اس کے پاس اپنے نفس میں سے شاہد پیدا ہو جاوے۔ خواب کا ملکہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے انسان کی بناوٹ میں رکھ دیا ہے کہ کہیں یہ نبوت کا انکار ہی نہ کر دے۔ سچی خواب کے واسطے اللہ تعالیٰ نے کوئی شرط نہیں رکھی بلکہ بلا امتیاز کفر و اسلام، نیک و بد یہ ملکہ ہر فرد بشر میں رکھ دیا ہے۔ بھلا دیکھو تو حضرت یوسف کے ساتھ جو دو آدمی قید تھے ان دونوں کو بھی