ملفوظات (جلد 10) — Page 132
اپنے آپ تک ہی محدود رکھا ہو بلکہ اس فتویٰ میں قریباً تمام ہندوستان کے بڑے بڑے مولویوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے واسطے سر توڑ کو شش کرتا رہا ہے۔دوسری طر ف ہمیں ایک شرعی معاملہ میں منصف بنانا چاہتا ہے۔اس کے نزدیک جب ہم دائرہ اسلام سے ہی خارج ہیں تو پھر ایک شرعی معاملہ میں ہمارا دخل کیا اور فیصلہ کیسا ؟ اس سے کہو کہ پہلے تم ہمارے کفر و اسلام کا تو فیصلہ کر لو پھر ہمیں منصف بھی بنا لینا۔اس شخص نے تو جہاں تک اس سے ممکن ہوسکا ہے اور اس کا بس چلا ہے ہمیں پھانسی دلانے کی کوششوں میں بھی کمی نہیں کی مگر یہ اللہ کا فضل اور اس کی خا ص نصرت تھی کہ اُس نے ہمیں ہرمیدان میں عزت دی اور اعدا اور ہماری ذلّت چاہنے والوں کو ذلیل کیا۔دیکھو لیکھرام کے قتل کے وقت بھی اس نے کس طرح آریوں کو اُکسایا۔ہماری تلاشی ہوئی اور پھر خون کے مقدمہ میں ایک عیسائی کی طرف سے گواہ بن کر ہمارے بر خلاف اقدام قتل کے ثبوت کے واسطے کو ششیں کیں۔گورنمنٹ کو ہم سے بد ظن کرنے میں اس نے کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا۔ہمیں باغی بنایا اور صاف کہا کہ گورنمنٹ کیوں ایسے باغی کو نہیں پکڑتی؟ عام لوگوں کو ہم سے بد ظن کرنے میں اپنے ناخنوں تک زور لگایا۔لوگوں سے کہہ دیا کہ ان سے سلام مت کرو۔مصافحہ مت کرو۔ان کی چوری کرنا، ان کو قتل کر دینا اور ان کی عورتیں چھین لینا جائز ہے۔پھر جب اس کے ہم پر ایسے ایسے احسانات ہیں تو اب یہ نامہ وپیام کیسے ہیں ؟ معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں جس کے واسطے یہ اتنے زور دیتا ہے کہ اس کی کوئی ذاتی اور نفسانی غرض ہے اگر کچھ بھی سعادت کا حصہ اس میں ہوتا تو اسی معاملہ میں غور کرتا کہ جس دن سے اس نے ہماری مخالفت کا بیڑا اُٹھایا ہے اور ہمارے نیست ونابود کرنے میں جان توڑ کو ششیں کی ہیں۔اسی دن سے اندازہ تو لگائے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے کیسے فیضان نا ز ل ہوئے اور ہمیں کس طرح خدا نے بڑھا یا اور اس کا اپنا کیا حال ہوا؟ ایک سعید انسان اور سلیم الفطرت آدمی کے ہدایت پاجانے کے واسطے صرف یہی بات کافی تھی۔