ملفوظات (جلد 10) — Page 129
ذریعہ سے پھیلایا ہو کیونکہ ان کے مرد تو عمومًا کھیتی کے دھندوں میں جنگلوں بنوں میں رہتے تھے اور ان کو اشاعتِ مذہب کے واسطے کم فرصت ہوتی تھی۔عورتیں ہی یہ کام کرتی ہوں۔حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ ہمیں ایک دفعہ خیال آیا کہ کرشن جی کو داؤدؑ کے سا تھ بالکل مشابہت معلوم ہوتی ہے۔بلحاظ راگ، رقص مجمع مستورات اور بہادری میں خدا جانے یہ کیا بات ہے؟ کتاب’’ چشمہ معرفت ‘‘ فرمایا کہ ہم نے اپنی کتاب کا نام جس میں لیکچر لاہور لکھا ہے اور ابھی کچھ حصہ اس کا باقی ہے چشمہ معرفت رکھا ہے کیونکہ اس میں بڑی معرفت کی باتیں اور حقائق ومعارف درج کئے گئے ہیں۔فرمایا۔وہ لیکچر تو ہم نے خاص خاص اس مجمع کا لحا ظ رکھ کر اور ان کے شائع کردہ شرائط کے مطابق اور مناسب موقع اختصار سے لکھا تھا مگر جب انہوں نے خود اپنے شائع کردہ شرائط کی پا بندی نہ کی اور اپنے اقرار کی ذرہ بھی پروانہ کر کے بہت سے وہی پرانے اعتراضات جن کا بارہا جواب دے دیا گیا ہے پھر دلآزاری کے واسطے بیان کئے تو ہمیں بطور تتمہ ان کے سب سوالات کا جواب لکھنے کے واسطے کتاب کو اور بڑھا نا پڑا۔فرمایا۔مشکل یہ ہے کہ ان لوگوں نے تو قسم کھائی ہوئی ہے کہ ہماری کتاب نہ پڑھیں۔جہل، نادانی اور تعصب کی پٹی آنکھوں پر باندھی ہوئی ہے۔ہماری کسی کتاب کو نہیں پڑھتے۔دلائل کو نہیں مانتے بے تحاشا اعتراض کئے جاتے ہیں۔فرمایا۔اس کتاب میں ہم نے بڑی بسط سے ان کے متعلق لکھ دیا ہے اور اگر کوئی حق جُو بن کر مطالعہ کرے تو اس کے واسطے کافی ہے۔دورانِ تقریر میں حضرت اقدسؑ نے یہ بھی فرمایا کہ۔آریوں کے ہاتھ میں آجکل مسلمانوں کے بر خلاف غلط فہمی پھیلانے کے واسطے صرف تعدّدِ ازدواج ہی کا مسئلہ رہ گیا جس پر یہ لوگ اپنی نادانی کی وجہ اس کی حکمت اور حقیقت سے بے خبر